@voiceofpublic3: آدھی پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرکے فیصل کریم کنڈی حکومت کریں گے، جبکہ سابقہ قبائلی علاقوں سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرکے شہباز شریف کی وفاقی حکومت انتظامی معاملات سنبھالے گی۔ اطلاعات کے مطابق، خیبر پختونخوا کے جن 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، ان میں سابقہ قبائلی علاقوں کے 8 اضلاع باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہیں، جبکہ بندوبستی اضلاع میں لکی مروت، بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔ یعنی ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں ڈویژن مکمل، کوہاٹ اور پشاور ڈویژن کے دو، دو اضلاع، جبکہ ملاکنڈ ڈویژن کا ایک ضلع اس ممکنہ انتظامی تبدیلی کی زد میں آ سکتا ہے۔ دوسری جانب، باقی اضلاع میں گورنر راج کے تحت پشاور، مردان، ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کے انتظامی معاملات فیصل کریم کنڈی اور آصف علی زرداری کی وفاقی حکومت کے زیرِ اثر ہوں گے۔ مبارک ہو پختونوں! 💔 آدھی پختونخوا میں گورنر راج اور باقی حصوں میں ایمرجنسی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو کیا واقعی پختونخوا سیاسی مفادات کی خاطر تقسیم ہو جائے گا؟ سوال یہ ہے کہ پختونوں کے فیصلے پختون خود کریں گے یا ان کے مستقبل کا فیصلہ کہیں اور ہوگا؟ نوٹ: یہ اطلاعات تاحال غیر مصدقہ ہیں۔ حتمی سرکاری اعلان سامنے آنے تک انہیں یقینی خبر کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ #PTIofficial #kpk #پشتون #foryou #treanding