@beks.harris: This is such a fun idea for date night 😆 #PaintYourPartner #DateNightIdea #DateNight #CouplesGame #CouplesChallenge

Beks 🎀✨
Beks 🎀✨
Open In TikTok:
Region: GB
Friday 23 October 2026 18:00:00 GMT
757
8
3
2

Music

Download

Comments

beks.harris
Beks 🎀✨ :
@The Fantastic Factory
2026-10-23 19:10:42
0
To see more videos from user @beks.harris, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سرگودھا کے نوجوان طالب علم عمر فاروق باجوہ کی والدہ جگر کی شدید بیماری میں مبتلا تھیں۔ ڈاکٹروں نے ان کے علاج کے لیے جگر کی پیوندکاری تجویز کی۔ اس مشکل وقت میں عمر اپنی والدہ کو جگر کا حصہ عطیہ کرنے کے لیے آگے آئے۔ لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں ان کا آپریشن ہوا اور ان کے جگر کا ایک حصہ والدہ کو منتقل کیا گیا۔ لیکن آپریشن کے بعد عمر کی اپنی طبیعت بگڑنے لگی۔ وہ تقریباً ایک ہفتہ زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے۔ علاج جاری رہا، مگر وہ صحت یاب نہ ہو سکے۔ 31 جنوری 2020 کو عمر فاروق باجوہ انتقال کر گئے۔ اس طرح ماں کو بچانے کے لیے ہسپتال جانے والا بیٹا خود زندہ گھر واپس نہ آ سکا۔ اس وقت شائع ہونے والی خبروں کے مطابق، عمر کی والدہ بھی ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں اور انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ بعض رپورٹس میں آپریشن کے بعد عمر میں ہیپاٹائٹس ای کی تشخیص کا ذکر بھی کیا گیا۔ بعدازاں ہسپتال کے جگر ٹرانسپلانٹ یونٹ میں پیوندکاریاں روک کر تحقیقات شروع کی گئیں۔ اس کہانی کا سب سے گہرا دکھ اسی امید میں چھپا ہے جس کے ساتھ عمر نے اپنا جگر عطیہ کیا تھا: اپنی ماں کی زندگی بچانے کی امید۔ اس کوشش کے دوران ایک نوجوان بیٹے کی اپنی زندگی ختم ہو گئی۔ عمر فاروق باجوہ کا نام اس محبت کے ساتھ یاد رکھا جانا چاہیے جسے انہوں نے اپنے عمل سے ظاہر کیا۔ اپنی بیمار ماں کے لیے آگے بڑھنے کا ان کا فیصلہ احترام کے قابل ہے، اور ان کی وفات ایک ایسا دکھ ہے جسے جان کر دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ عمر فاروق باجوہ کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔
سرگودھا کے نوجوان طالب علم عمر فاروق باجوہ کی والدہ جگر کی شدید بیماری میں مبتلا تھیں۔ ڈاکٹروں نے ان کے علاج کے لیے جگر کی پیوندکاری تجویز کی۔ اس مشکل وقت میں عمر اپنی والدہ کو جگر کا حصہ عطیہ کرنے کے لیے آگے آئے۔ لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں ان کا آپریشن ہوا اور ان کے جگر کا ایک حصہ والدہ کو منتقل کیا گیا۔ لیکن آپریشن کے بعد عمر کی اپنی طبیعت بگڑنے لگی۔ وہ تقریباً ایک ہفتہ زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے۔ علاج جاری رہا، مگر وہ صحت یاب نہ ہو سکے۔ 31 جنوری 2020 کو عمر فاروق باجوہ انتقال کر گئے۔ اس طرح ماں کو بچانے کے لیے ہسپتال جانے والا بیٹا خود زندہ گھر واپس نہ آ سکا۔ اس وقت شائع ہونے والی خبروں کے مطابق، عمر کی والدہ بھی ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں اور انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ بعض رپورٹس میں آپریشن کے بعد عمر میں ہیپاٹائٹس ای کی تشخیص کا ذکر بھی کیا گیا۔ بعدازاں ہسپتال کے جگر ٹرانسپلانٹ یونٹ میں پیوندکاریاں روک کر تحقیقات شروع کی گئیں۔ اس کہانی کا سب سے گہرا دکھ اسی امید میں چھپا ہے جس کے ساتھ عمر نے اپنا جگر عطیہ کیا تھا: اپنی ماں کی زندگی بچانے کی امید۔ اس کوشش کے دوران ایک نوجوان بیٹے کی اپنی زندگی ختم ہو گئی۔ عمر فاروق باجوہ کا نام اس محبت کے ساتھ یاد رکھا جانا چاہیے جسے انہوں نے اپنے عمل سے ظاہر کیا۔ اپنی بیمار ماں کے لیے آگے بڑھنے کا ان کا فیصلہ احترام کے قابل ہے، اور ان کی وفات ایک ایسا دکھ ہے جسے جان کر دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ عمر فاروق باجوہ کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔

About