@ivisionon: The new Apple TV 4K and HomePod mini are reportedly set to ship on Friday, October 30. Both products are expected to be announced next week, on Tuesday, October 13. (Source: Mark Gurman)

iVision
iVision
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 11 October 2026 20:31:43 GMT
500
3
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @ivisionon, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

باجوڑ کی روپوش پی ٹی آئی قیادت کہاں غائب ہے؟ کارکن سڑکوں پر، رہنما منظرِ عام سے غائب!  باجوڑ کی قیادت سے سخت سوالات باجوڑ میں پاکستان تحریک انصاف کی روپوش قیادت کی خاموشی نے پارٹی کارکنوں کو کئی سوالات اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایم پی اے انور زیب خان، سابق ایم این اے گل ظفر ، ضلعی صدر گل داد ، ایم پی اے اجمل خان اور ڈاکٹر خلیل الرحمن جیسے سرکردہ رہنماؤں سے سوال ہے کہ آخر وہ کس وقت کے انتظار میں ہیں؟ بانی پی ٹی آئی عمران خان کئی سالوں سے قید ہیں، پارٹی کارکن مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، باجوڑ کے بازاروں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، لیکن افسوس کہ جن رہنماؤں کو عوام نے عزت دی، ووٹ دیے اور سیاسی طاقت دی، وہی مشکل وقت میں عوام کے سامنے نظر نہیں آ رہے۔ انور زیب خان ماضی میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں، لیکن باقی قیادت کہاں کھڑی ہے؟ سابق ایم این اے گل ظفر خان، ضلعی صدر گل داد خان، ایم پی اے اجمل خان اور ڈاکٹر خلیل الرحمن سمیت تمام سرکردہ رہنماؤں کو عوام کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ اگر کارکن گرفتاریوں اور چھاپوں کے باوجود احتجاج کر سکتے ہیں، تو قیادت کم از کم اپنے کارکنوں کو واضح پیغام اور سیاسی لائحہ عمل کیوں نہیں دے سکتی؟ کیا کارکن صرف جلسوں، نعروں، ووٹوں اور سیاسی طاقت کے حصول کے لیے ہیں؟ کیا قیادت کی ذمہ داری صرف انتخابی مہم تک محدود ہے؟ باجوڑ میں پارٹی رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر مسلسل چھاپوں کی اطلاعات اپنی جگہ، لیکن عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قیادت کی جانب سے کارکنوں کی رہنمائی اور سیاسی رابطے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گورنر راج اور قبائلی اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی صورتحال میں سیاسی قیادت کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ایسے وقت میں خاموشی اور غیر موجودگی کارکنوں کے حوصلے پست اور پارٹی کے اندر بداعتمادی پیدا کر سکتی ہے۔ باجوڑ کی پی ٹی آئی قیادت یاد رکھیں کہ سیاست صرف اقتدار، عہدوں اور پروٹوکول کا نام نہیں؛ سیاست امتحان کا نام ہے، اور اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ اگر کارکن سڑکوں پر نکلیں، قیادت غائب ہو، کارکن سوالات کا سامنا کریں اور رہنما خاموش رہیں، تو پھر کارکنوں کو جواب کون دے گا؟ کارکنان مطالبہ کرتے ہیں کہ باجوڑ کی پی ٹی آئی قیادت اپنی روپوشی کی وجوہات واضح کریں، کارکنوں کو اعتماد میں لے اور اپنی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا اعلان کرے۔ اگر کسی رہنما کو گرفتاری یا اپنی سلامتی کا حقیقی خدشہ ہے تو وہ اس بارے میں بھی کارکنوں کو واضح مؤقف دے۔  عمران خان کے نام پر ووٹ لینے والی باجوڑ کی قیادت، کیا مشکل وقت میں اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار ہے؟؟، یا کارکنوں کو صرف قربانی دینے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے؟ باجوڑ کے عوام اور کارکن اب نعروں سے نہیں، عملی کردار اور واضح جواب سے مطمئن ہوں گے۔ #tiktok #short ###مبارک_زیب_ #مانڑوکاکا @Highliht @follower
باجوڑ کی روپوش پی ٹی آئی قیادت کہاں غائب ہے؟ کارکن سڑکوں پر، رہنما منظرِ عام سے غائب! باجوڑ کی قیادت سے سخت سوالات باجوڑ میں پاکستان تحریک انصاف کی روپوش قیادت کی خاموشی نے پارٹی کارکنوں کو کئی سوالات اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایم پی اے انور زیب خان، سابق ایم این اے گل ظفر ، ضلعی صدر گل داد ، ایم پی اے اجمل خان اور ڈاکٹر خلیل الرحمن جیسے سرکردہ رہنماؤں سے سوال ہے کہ آخر وہ کس وقت کے انتظار میں ہیں؟ بانی پی ٹی آئی عمران خان کئی سالوں سے قید ہیں، پارٹی کارکن مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، باجوڑ کے بازاروں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، لیکن افسوس کہ جن رہنماؤں کو عوام نے عزت دی، ووٹ دیے اور سیاسی طاقت دی، وہی مشکل وقت میں عوام کے سامنے نظر نہیں آ رہے۔ انور زیب خان ماضی میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں، لیکن باقی قیادت کہاں کھڑی ہے؟ سابق ایم این اے گل ظفر خان، ضلعی صدر گل داد خان، ایم پی اے اجمل خان اور ڈاکٹر خلیل الرحمن سمیت تمام سرکردہ رہنماؤں کو عوام کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ اگر کارکن گرفتاریوں اور چھاپوں کے باوجود احتجاج کر سکتے ہیں، تو قیادت کم از کم اپنے کارکنوں کو واضح پیغام اور سیاسی لائحہ عمل کیوں نہیں دے سکتی؟ کیا کارکن صرف جلسوں، نعروں، ووٹوں اور سیاسی طاقت کے حصول کے لیے ہیں؟ کیا قیادت کی ذمہ داری صرف انتخابی مہم تک محدود ہے؟ باجوڑ میں پارٹی رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر مسلسل چھاپوں کی اطلاعات اپنی جگہ، لیکن عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قیادت کی جانب سے کارکنوں کی رہنمائی اور سیاسی رابطے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گورنر راج اور قبائلی اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی صورتحال میں سیاسی قیادت کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ایسے وقت میں خاموشی اور غیر موجودگی کارکنوں کے حوصلے پست اور پارٹی کے اندر بداعتمادی پیدا کر سکتی ہے۔ باجوڑ کی پی ٹی آئی قیادت یاد رکھیں کہ سیاست صرف اقتدار، عہدوں اور پروٹوکول کا نام نہیں؛ سیاست امتحان کا نام ہے، اور اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ اگر کارکن سڑکوں پر نکلیں، قیادت غائب ہو، کارکن سوالات کا سامنا کریں اور رہنما خاموش رہیں، تو پھر کارکنوں کو جواب کون دے گا؟ کارکنان مطالبہ کرتے ہیں کہ باجوڑ کی پی ٹی آئی قیادت اپنی روپوشی کی وجوہات واضح کریں، کارکنوں کو اعتماد میں لے اور اپنی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا اعلان کرے۔ اگر کسی رہنما کو گرفتاری یا اپنی سلامتی کا حقیقی خدشہ ہے تو وہ اس بارے میں بھی کارکنوں کو واضح مؤقف دے۔ عمران خان کے نام پر ووٹ لینے والی باجوڑ کی قیادت، کیا مشکل وقت میں اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار ہے؟؟، یا کارکنوں کو صرف قربانی دینے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے؟ باجوڑ کے عوام اور کارکن اب نعروں سے نہیں، عملی کردار اور واضح جواب سے مطمئن ہوں گے۔ #tiktok #short ###مبارک_زیب_ #مانڑوکاکا @Highliht @follower

About