گُم سا گیا وہ شخص جس کا چرچا تھا کبھی
خاموشیوں میں ڈھل گیا، جو بولتا تھا کبھی
شاید وہ ڈھونڈتا تھا کسی حرفِ وفا کو
چہرے بڑے تدبر سے جو پڑھتا تھا کبھی
صحرا کی طرح دیر تلک پیاسا رہا وہ
بادل کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا کبھی
اے تیز ہوا! کچھ تو خبر دے اس کے جنوں کی
تنہا ہی سفرِ شوق پہ نکلا تھا کبھی
اب آخری صفحوں میں کہیں نام ہے اس کا
احباب کی فہرست میں اوّل تھا کبھی
ہاتھوں میں لیے پھرتا ہے چھپا کر کوئی زخم
شیشے کے کھلونوں سے جو بہلتا تھا کبھی
پلٹ پلٹ کے اسے دیکھتی ہیں اب بھی یہ آنکھیں
کچھ دور مجھے چھوڑنے آیا تھا کبھی
اب اس نے بھی دنیا کے سلیقے ہیں سمیٹے
سائے کی رفاقت سے بھی ڈرتا تھا کبھی
ہر ذہن میں اک نقشِ وفا چھوڑ گیا ہے
کہنے کو بڑے شہر میں تنہا تھا کبھی
پہچان سے میری بھی وہ اب منکر ہوا ہے
سلمانؔ جو خط خون سے لکھتا تھا کبھی
2026-10-12 04:47:14
0
To see more videos from user @white_jasper, please go to the Tikwm
homepage.