@livelightsblackpool: #Crime #BreakingNews #UKTrueCrime #TrueCrime #FYP

True crime uk video clips
True crime uk video clips
Open In TikTok:
Region: GB
Monday 12 October 2026 00:48:27 GMT
1564
15
1
0

Music

Download

Comments

To see more videos from user @livelightsblackpool, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

خان پور ( خبر نگار ) چک 66 پی میں 100 کنال سے زائد سرکاری اراضی پر بااثر افراد کا قبضہ برقرار، چراگاہ اور غربا کے لیے مختص رقبے پر فصلیں کاشت، اراضی مبینہ طور پر 2 لاکھ 25 ہزار روپے فی ایکڑ تک آگے کرائے پر دینے کا الزام، سرکاری خزانے کو سالانہ کروڑوں کا ٹیکہ لگایا جانے لگا، اہل علاؤہ کی جانب سے کمشنر بہاولپور کو قبضہ واگزاری کی تازہ درخواست دے دی گئی ، تحصیل خان پور کے نواحی علاقے چک 66 پی میں سو کنال سے زائد قیمتی سرکاری اراضی پر بااثر افراد کا ناجائز قبضہ آج بھی برقرار ہے ، ذرائع کے مطابق  مذکورہ اراضی کا ایک حصہ اہلِ علاقہ کے مویشیوں کی چراگاہ جبکہ باقی حصہ صوبائی حکومت کی جانب سے علاقے کے غریب اور مستحق افراد کے لیے مختص تھا، تاہم قابضین نے اس پر فصلیں کاشت کر رکھی ہیں اور سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے ، علاقائی ذرائع کے مطابق مذکورہ اراضی کے معاملے پر ماضی میں بھی کارروائی ہو چکی ہے۔ 18 نومبر 2014ء کو اسسٹنٹ کمشنر خان پور چوہدری عبدالغفار نے کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز ایکٹ 1912ء کے تحت غلام مصطفیٰ ولد ولی محمد کی 46 کنال اراضی کا قبضہ واگزار کرانے کا حکم جاری کیا تھا اور خریف 1999ء تا 2014ء کے عرصے کے لیے 35 ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ کے حساب سے 11 لاکھ 49 ہزار 600 روپے تاوان بھی عائد کیا گیا تھا۔ تاہم معاملہ سرد خانے کی نذر ہو گیا۔ بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر محمد اکبر کی جانب سے بھی ریکوری کی ہدایات جاری کی گئیں اور جولائی 2019ء میں اس حوالے سے نوٹنگ بھی کی گئی، مگر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اہلِ علاقہ کے مطابق ماضی میں جرمانے اور قبضہ واگزاری کے باوجود بعض افسران کی مبینہ ملی بھگت کے باعث قابضین دوبارہ اراضی پر قابض ہو جاتے ہیں اور قبضہ آج تک ختم نہیں ہو سکا ، دوسری جانب چک 66 پی کے رہائشی محمد اعجاز احمد ولد شاہ اللہ دتہ نے 19 اکتوبر 2026ء کو کمشنر بہاولپور کو تازہ درخواست دے دی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ توقیر، محمد صادق، عبدالخالق، عبدالمنان اور غلام مصطفیٰ سمیت بااثر افراد نے سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اسے مبینہ طور پر 2 لاکھ 25 ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ تک کے حساب سے آگے کرائے پر دے رکھا ہے۔ درخواست کی نقول چیف سیکریٹری پنجاب، ڈی جی اینٹی کرپشن اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان کو بھی بھجوائی گئی ہیں ، اہلِ علاقہ ثناء اللہ، مسلم علی اور دیگر مکینوں کا کہنا ہے کہ چراگاہ پر قبضے کے باعث مویشی پال حضرات شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ غریب اور مستحق افراد کے لیے مختص اراضی پر چند بااثر افراد کی اجارہ داری قائم ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں، سرکاری اراضی واگزار کرائی جائے اور قبضے میں ملوث عناصر سمیت سہولت کاری کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ، اس حوالے سے موقف جاننے کے لیے الزام علیہ فریق سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ نہ ہو سکا ۔
خان پور ( خبر نگار ) چک 66 پی میں 100 کنال سے زائد سرکاری اراضی پر بااثر افراد کا قبضہ برقرار، چراگاہ اور غربا کے لیے مختص رقبے پر فصلیں کاشت، اراضی مبینہ طور پر 2 لاکھ 25 ہزار روپے فی ایکڑ تک آگے کرائے پر دینے کا الزام، سرکاری خزانے کو سالانہ کروڑوں کا ٹیکہ لگایا جانے لگا، اہل علاؤہ کی جانب سے کمشنر بہاولپور کو قبضہ واگزاری کی تازہ درخواست دے دی گئی ، تحصیل خان پور کے نواحی علاقے چک 66 پی میں سو کنال سے زائد قیمتی سرکاری اراضی پر بااثر افراد کا ناجائز قبضہ آج بھی برقرار ہے ، ذرائع کے مطابق مذکورہ اراضی کا ایک حصہ اہلِ علاقہ کے مویشیوں کی چراگاہ جبکہ باقی حصہ صوبائی حکومت کی جانب سے علاقے کے غریب اور مستحق افراد کے لیے مختص تھا، تاہم قابضین نے اس پر فصلیں کاشت کر رکھی ہیں اور سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے ، علاقائی ذرائع کے مطابق مذکورہ اراضی کے معاملے پر ماضی میں بھی کارروائی ہو چکی ہے۔ 18 نومبر 2014ء کو اسسٹنٹ کمشنر خان پور چوہدری عبدالغفار نے کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز ایکٹ 1912ء کے تحت غلام مصطفیٰ ولد ولی محمد کی 46 کنال اراضی کا قبضہ واگزار کرانے کا حکم جاری کیا تھا اور خریف 1999ء تا 2014ء کے عرصے کے لیے 35 ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ کے حساب سے 11 لاکھ 49 ہزار 600 روپے تاوان بھی عائد کیا گیا تھا۔ تاہم معاملہ سرد خانے کی نذر ہو گیا۔ بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر محمد اکبر کی جانب سے بھی ریکوری کی ہدایات جاری کی گئیں اور جولائی 2019ء میں اس حوالے سے نوٹنگ بھی کی گئی، مگر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اہلِ علاقہ کے مطابق ماضی میں جرمانے اور قبضہ واگزاری کے باوجود بعض افسران کی مبینہ ملی بھگت کے باعث قابضین دوبارہ اراضی پر قابض ہو جاتے ہیں اور قبضہ آج تک ختم نہیں ہو سکا ، دوسری جانب چک 66 پی کے رہائشی محمد اعجاز احمد ولد شاہ اللہ دتہ نے 19 اکتوبر 2026ء کو کمشنر بہاولپور کو تازہ درخواست دے دی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ توقیر، محمد صادق، عبدالخالق، عبدالمنان اور غلام مصطفیٰ سمیت بااثر افراد نے سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اسے مبینہ طور پر 2 لاکھ 25 ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ تک کے حساب سے آگے کرائے پر دے رکھا ہے۔ درخواست کی نقول چیف سیکریٹری پنجاب، ڈی جی اینٹی کرپشن اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان کو بھی بھجوائی گئی ہیں ، اہلِ علاقہ ثناء اللہ، مسلم علی اور دیگر مکینوں کا کہنا ہے کہ چراگاہ پر قبضے کے باعث مویشی پال حضرات شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ غریب اور مستحق افراد کے لیے مختص اراضی پر چند بااثر افراد کی اجارہ داری قائم ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں، سرکاری اراضی واگزار کرائی جائے اور قبضے میں ملوث عناصر سمیت سہولت کاری کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ، اس حوالے سے موقف جاننے کے لیے الزام علیہ فریق سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ نہ ہو سکا ۔

About