@permanent_lock7: جب میرا نکاح میرے پسندیدہ شخص سے ہو جائے گا..." شہر کی اس پرشور فضا میں ہر شخص اپنے مقدر کی تلاش میں بھاگ رہا تھا، مگر روشان کی دنیا ان سب سے الگ تھی۔ روشان کے لیے زندگی کا مطلب صرف ایک ہی انسان تھا—حیا۔ حیا وہ لڑکی تھی جس کی معصومیت، جس کی ادائیں اور جس کا ہنستا ہوا چہرہ روشان کی دعاؤوں کا محور تھا۔ روشان اکثر تنہائی میں بیٹھ کر اپنے دل کی کتاب کے پُرآسماں ورق پلٹتا اور بس ایک ہی دعا مانگتا کہ یا اللہ! میری یہ دعا کبھی رائیگاں نہ جائے۔ روشان اکثر اپنے دوستوں سے کہا کرتا تھا، اور اپنے دل میں بار بار دہراتا تھا: “جب میرا نکاح میرے پسندیدہ شخص سے ہو جائے گا... تو میں اس کے کان میں چپکے سے کہوں گا— "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ" (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟)...” یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ یہ برسوں کی پیاس، تپتے صحرا میں بارش کی پہلی بوند، اور سجدوں میں بہائے گئے آنسوؤں کا نچوڑ تھا۔ وقت نے کئی امتحان لیے۔ محبت کے راستے میں کانٹے بھی آئے، طوفان بھی اٹھے، اور اپنوں کی بے رخیاں بھی دیکھیں۔ لوگوں نے طعنے دیے کہ یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا، کہ تقدیر کے فیصلے اور انسان کی چاہتیں اکثر جُدا ہوتی ہیں۔ مگر روشان کا ایمان اپنی جگہ پکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ جو دل سچی نیت سے کسی کو مانگتا ہے، کائنات کا مالک اس کی پکار کو رد نہیں کرتا۔ روشان کا یہ پختہ یقین تھا کہ اللہ تعالی اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے، اور بے شک وہی ہر چیز پر قادر ہے! جب بھی دل بیٹھنے لگتا، وہ قرآن کی اس آیت کو یاد کرتا اور اس کا دل پختہ ہو جاتا کہ جو ذات سات آسمانوں کے اوپر سے دلوں کے حال جانتی ہے، وہ اس کی تقدیر میں حیا کو ضرور لائے گی۔ اور پھر وہ مبارک گھڑی آ ہی گئی۔ شام کا وقت تھا، چاروں طرف پھولوں کی مہک تھی، اور خوشیوں کا سماں تھا۔ سرخ جوڑے میں ملبوس حیا دلہن بنی بیٹھی تھی، اور روشان کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو چکی تھیں۔ نکاح کے کاغذات پر دستخط ہوتے ہی یوں لگا جیسے کائنات کی ساری رونقیں سمٹ کر اس کمرے میں آ گئی ہوں۔ وہ سرخ صوفہ، وہ محبت بھرا ماحول، اور پس منظر میں سجی ہوئی خوشیوں کی بہار—سب کچھ کسی خوبصورت خواب جیسا لگ رہا تھا۔ روشان آہستہ سے حیا کے قریب آیا۔ اس کے سر پر محبت بھرا ہاتھ رکھا، اور جب سب کی نگاہیں ہٹیراں ہوئیں، تو روشان نے جھک کر حیا کے کان کے پاس اپنا چہرہ کیا اور آہستہ سے، لڑکھٹاتی مگر پُرخلوص آواز میں کہا: “جب میرا نکاح میرے پسندیدہ شخص سے ہو گیا ہے... تو آج میں تمہارے کان میں چپکے سے کہتا ہوں... 🎀FK👸انت الحیات🔐 — فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ!” حیا کی آنکھیں خوشی سے چھلک اٹھیں۔ اس نے اپنے آنسوؤں کو چھپانے کی کوشش کی، مگر روگ بیاں ہو ہی گیا۔ اس ایک جملے نے دونوں کی روحوں کو جوڑ دیا تھا۔ وہ جان گئے تھے کہ صبر کا پھل کتنا میٹھا ہوتا ہے، اور جب اللہ پر بھروسہ ہو، تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ آج بھی جب لوگ اس جوڑے کو دیکھتے ہیں اور ان کی یہ کہانی پڑھتے ہیں، تو ان کی پلکیں بھیگ جاتی ہیں اور دل سے ایک ہی صدا نکلتی ہے: واقعی، اللہ اپنے بندوں سے اتنی محبت کرتا ہے، اور بے شک وہی ہر چیز پر قادر ہے! #foryou #growmyaccount #foryoupage #permanent_lock🔐 #شہزادی_شہزادہ👸