Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@primesportsusa1: Heavy Rain & Flooded Ground 🌧️ Moorland Wild Camp ⛺ #CampingTok #WildCamping #RainASMR #OutdoorTok #NatureTok
American Wild Camp 🇺🇸🇺🇸
Open In TikTok:
Region: US
Monday 12 October 2026 04:00:28 GMT
859
23
0
1
Music
Download
No Watermark .mp4 (
110.29MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
84.04MB
)
Watermark .mp4 (
116.37MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @primesportsusa1, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#cops #usa #policeofficer #bodycam #fyp Police body-worn camera
#manistudio18 #trending #foryoupage #viralvideo #unfreezemyacount
مفتیٔ اعظم ھِند حضرت مولانا مفتی مُحمّد کِفایتُ اللہ صَاحب دھلوی نَوّر اللہ مَرقدہ۔ مفتی اعظم ہند مولانا کفایت اللہ رحمہ اللہ (1875ء۔۔1952ء) (مصنف کفایت المفتی) اپنے وقت کے مُفسّر ، مُحدّث ، فقیہ ، ادیب ، شاعر ، فقیہ الاُمّت ، ابُو حنیفہ زماں ، مُدبّر سیاست داں اور ھندوستان کے بِالاتفاق مفتیٔ اعظم تھے۔ آپ اپنے وقت کے مُفسّر ، مُحدّث علماء ھند کی تاسیس میں پیش پیش رھے اور مسند صدارت پر بھی فائز ہوئے ، علم و فضل ، تقویٰ و طھارت اور اخلاق و کمالات کے لحاظ سے طبقہ علماء کی ایک بے نظیر شخصیت تھے۔ مفتی اعظم ہند مولانا کفایت اللہ رحمہ اللہ کی ولادت 1292ھ مطابق 1875ء میں شاہجہاں پور کے " محلّہ سن زئی " میں ہوئی ۔ آپ کے والد ماجد کا نام شیخ عنایت اللہؒ اور دادا کا نام فیض اللہؒ تھا ۔ تعلیم و تربیت : آپ پانچ سال کی عمر میں شہر کے ایک محلے میں حافظ برکت اللہ صاحبؒ کے مکتب میں داخل ہوئے اور یہیں قرآن مجید ختم کیا اس کے بعد ابتدائی تعلیم اپنے وطن ہی میں مختلف اساتذہ سے حاصل کی ۔ پھر کچھ کتابیں مدرسہ اعزازیہ شاہجہاں پور میں پڑھیں ۔ اس کے بعد مدرسہ شاھی مرادآباد میں داخل ہوگئے ۔ وہاں حضرت مولانا عبد العلی میرٹھیؒ ( تلمیذ رشید حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ ) اور دوسرے اساتذہ سے پڑھا ۔ آخر میں 1312ھ میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور 1315ھ مطابق 1896ء میں 22 سال کی عمر میں حضرت شیخ الھندؒ سے حدیث کی تکمیل کرکے سند فراغت حاصل کی ۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت شیخ الھند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ ، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ ، حضرت مولانا غلام رسول خاںؒ کے اسمائے گرامی شامل ہیں ۔ درس و تدریس : فراغت کے بعد آپ مدرسہ عین العلوم شاہجہاں پور میں مدرس مقرر ہوئے ۔ اسی زمانے میں آپ نے فتوی نویسی کا آغاز کیا اور قادیانیت کی تردید کے لئے 1321ھ / 1903ء میں ایک ماہانہ رسالہ " البرہان " جاری کیا ۔ پھر شوال المکرم 1321ھ / 1904ء کے اواخر میں حضرت مولانا امین الدین دہلویؒ بانی مدرسہ امینیہ دھلی کے اصرار اور طلب و فرمائش پر دھلی تشریف لائے اور مدرسہ امینیہ دھلی کے صدر مدرس و مفتی کے عھدہ پر مامور ہوئے اور وہاں تادم واپسیں تقریبا پچاس سال صدرالمدرسین اور شیخ الحدیث کے عہدہ پر قائم رھے اور پوری زندگی آپ نے اسی مدرسہ کو بنانے اور سنوارنے میں صرف کردی اور عمر کے آخری لمحوں تک اسی مدرسہ سے وابستہ رھے ۔ حضرت مفتی صاحبؒ کا ایک بڑا کارنامہ یہ ھے کہ آپ نے مدرسہ امینیہ دھلی کو اپنی جد و جھد سے غیر معمولی ترقی دی اور اس کا ھندوستان کے مشھور دینی مدارس میں شمار ہونے لگا ۔ 1355ھ / 1936ء میں دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن منتخب ہوئے اور آخر عمر تک اپنے فہم و تدبر سے دارالعلوم دیوبند کے ارباب انتظام کو مستفید کرتے رھے ۔ راہ سلوک : آپ امام ربّانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قُدّس سِرّہ سے بیعت تھے ۔ مگر خود کسی کو بیعت نہیں کیا ۔ جب کوئی عقیدت مند بیعت کی درخواست کرتا تھا تو حضرت تھانویؒ یا حضرت شاہ عبد القادر رائیپوریؒ یا حضرت مولانا مدنیؒ یا حضرت مولانا الیاس کاندھلویؒ کی خدمت میں حاضر ہونے کی ھدایت فرماتے تھے ۔ آپ کا علمی و سیاسی کارنامہ : حضرت مفتی صاحبؒ کو اپنے استاذ حضرت شیخ الھندؒ سے بڑی ارادت تھی ، اس لئے شروع ہی سے آپ سیاست میں دلچسپی لینے لگے ۔ آپ کی ملی و قومی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ھے ۔ 1919ء میں آپ نے دیگر علماء کے ساتھ مل کر جمعیتہ علماء ھند قائم کی۔ 1919ء سے 1939ء تک جمعیتہ علماء ھند کے صدر منتخب ہوتے رھے ۔ آپ اس جمعیت کی طویل عرصہ صدر رہے۔ حضرت مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ ماوراء النہر سے اقصی ہند تک جے مفتی تھے آپکے تلامذہ اور افتاء کا نظام اس پورے خطے پر چلتا رہا یہاں تک کہ فلسطین کے بیع وشراء کی حرمت کا فتویٰ بھی آپ نے دیا تھا آپ کے فتاویٰ کا یہ امتیاز ہے کہ وہ کلیات پر مشتمل ہیں اور متون کی طرح مختصر ہے صاف اور واضح ہے۔ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ پورے برصغیر کے مفتی اعظم تھے اور تمام لوگ حضرت مفتی صاحب کے فتوے کا انتظار کیا کرتے تھی آپکا فتوی آخری سمجھا جاتا تھا۔ مفتی اعظم ہند مولانا کفایت اللہ رحمہ اللہ کا مقام جماعت شیخ الہند میں شعبہ افتاء میں امارت کا ہے لشکری محمود کو اس شعبہ میں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ۔ مولانا کفایت اللہ رحمہ اللہ 13 ربیع الثانی 1372ھ (1952ء) کو عازم دار آخرت ہوگے۔ #viralreels #unfrezzmyaccount #tiktokpakistan #unfreezemyacount #آزادی
Remake - Wemmbu Orbital Strike Cannon Edit #orbitalstrikecannon #minecaft #wemmbu #unstableSMP #viral
#loveislandusa #LoveIsland #cierra #foryou #fyp #usa
Kondisi Kabut Asap Palembang hari ini (21/10/26) sungguh sangat tebal dan pekat. Jujur, kami rindu sekali udara segar. Ya Allah semoga cepat turun hujan 😭😭 #fyp #kabutasap #karhutla #palembang #sikonyols
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy