وہ جو آج ہماری نظروں سے اتر گئے ہیں، کبھی ہماری آنکھوں کی سب سے خوبصورت روشنی ہوا کرتے تھے۔ کبھی ان کی ایک مسکراہٹ ہمارے چہرے پر خوشی بکھیر دیتی تھی، ان کی ذرا سی اداسی ہمارے دل کو بےچین کر دیتی تھی، اور ان کی آنکھوں میں چھپی ایک معمولی سی نمی بھی ہمیں رات بھر سوچنے پر مجبور کر دیتی تھی۔ ہم وہ لوگ تھے جو ان کی خوشیوں کے لیے اپنی خوشیاں قربان کر دیتے تھے، ان کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگتے تھے، اور ان کے چہرے پر کسی قسم کی پریشانی دیکھ کر خود پریشان ہو جاتے تھے۔ کبھی ان کی نظر نہ لگ جائے، اس خوف سے ان کی نظر اتارا کرتے تھے، ان کی ہر کامیابی پر دل سے خوش ہوتے تھے، اور انہیں دنیا کی ہر بری نظر سے محفوظ دیکھنا چاہتے تھے۔ مگر وقت نے ایسا پلٹا کھایا کہ جنہیں ہم نے اپنی آنکھوں میں بسا کر رکھا تھا، آج انہی کو اپنی نظروں سے اتارنا پڑ گیا۔