میں تو ہوں ایک اجڑے شہر کی مثال، تمہاری آنکھوں سے لگتا ہے اداس تم بھی ہو۔
فرق صرف اتنا ہے کہ میں نے ویرانی کو اپنی قسمت سمجھ لیا، اور تم نے شاید اپنے دل کے ملبے کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپا رکھا ہے۔ تمہاری آنکھوں میں وہ خاموشی ہے جو کسی گہری جدائی کے بعد اترتی ہے، جیسے کوئی شخص بہت کچھ کہنا چاہتا ہو مگر لفظوں کی تمام راہیں مسدود ہو چکی ہوں۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تم بھی کسی ایسے شخص کی منتظر ہو جو کبھی تمہاری دنیا کا مرکز تھا، مگر اب یادوں کے سوا تمہارے پاس اس کی کوئی نشانی باقی نہیں۔ شاید تمہاری پلکوں پر ٹھہری ہوئی نمی بھی کسی نامعلوم درد کی گواہی دیتی ہے، اور شاید تم بھی راتوں کو اپنے ہی خیالوں کے ملبے میں بیٹھ کر اُن لمحوں کو تلاش کرتی ہو جنہیں وقت بے رحمی سے تم سے چھین لے گیا۔ میں نے اپنے اندر بہت کچھ دفن کر رکھا ہے، مگر تمہاری آنکھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ تمہارے اندر بھی کوئی شہر مدتوں سے آباد نہیں ہوا۔ ہم دونوں شاید الگ الگ راستوں کے مسافر ہیں، مگر ہماری ویرانی ایک ہی زبان بولتی ہے؛ خاموشی کی زبان، انتظار کی زبان، اور اُس محبت کی زبان جسے نصیب نے منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی اجنبی بنا دیا۔