@haider.writees: دعا محض اپنی خواہشات کو اللہ کے سامنے رکھ دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ اعتراف بھی ہے کہ انسان کی سمجھ، طاقت اور اختیار محدود ہیں۔ کبھی ہم کسی خاص نتیجے کے لیے اتنی شدت سے دعا کرتے ہیں کہ اُس کے علاوہ کسی دوسرے امکان کو قبول کرنا مشکل لگنے لگتا ہے، مگر حقیقی توکل تب پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی کوشش جاری رکھتے ہوئے اپنے رب کی حکمت پر بھروسا کرنا سیکھتا ہے۔ کبھی حالات ہماری دعا کے مطابق بدل جاتے ہیں، اور کبھی حالات وہی رہتے ہیں مگر اللہ ہمیں اُن کا سامنا کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ صبر، حوصلہ اور بصیرت عطا کر دیتا ہے۔ یہی دعا کی ایک گہری خوبصورتی ہے کہ وہ صرف باہر کی دنیا میں تبدیلی کی امید نہیں، بلکہ اندر کی دنیا میں سکون کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ انسان جب اپنی بے بسی کو کمزوری سمجھنے کے بجائے اللہ کے سامنے عاجزی کا مقام سمجھ لیتا ہے تو اُس کے دل سے ہر چیز پر قابو پانے کی ضد آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔ پھر وہ صرف اپنی مرضی پوری ہونے کی دعا نہیں کرتا، بلکہ اُس راستے پر چلنے کی توفیق بھی مانگتا ہے جو اُس کے لیے بہتر ہو۔ کیونکہ کبھی سب سے بڑی نعمت حالات کا بدل جانا ہوتی ہے، اور کبھی اُن حالات میں اپنے دل کا نہ ٹوٹنا۔ #fy #foryou #viral #tiktokuk #unfreezemyacount