@honoriraq: الهاتف الذكي ذو البطارية الأكبر. سيتوفر الطلب المسبق بتاريخ 20 تشرين الأول. #HONORX9ePro

HONOR IRAQ
HONOR IRAQ
Open In TikTok:
Region:
Monday 12 October 2026 12:15:18 GMT
6900000
7865
165
686

Music

Download

Comments

reto.qween7
🐆💎Reto Qween :
ماما اشترت منه كلش حلو
2026-10-13 22:10:45
11
jdhrf64
ೃأنفاس متعبةೃ :
محتاجه مساعده
2026-10-13 21:24:28
5
m_f_m09
﮼حەمە ﮼سولتان⚜️ :
نرخ
2026-10-13 21:02:57
0
mryi_12
ᘓɹɹ̈̇ɹɠȷᓄ :
شكد سعرة
2026-10-13 21:08:19
4
km199t511
mustafa qasim :
شكد السعر اخي
2026-10-13 21:18:00
0
07812214405user
ماهر الكتلوني. البصراوي :
شكد السعر بل العراق
2026-10-13 22:56:01
0
mohammedalzrfy66
Mohammed :
أين متوفر في بغداد
2026-10-13 22:06:51
0
cb_g8
Yulia :
شكد سعره اذا اشتري منه ؟؟
2026-10-13 21:54:46
0
bapir28
B :
أفضل موبايل
2026-10-13 21:46:06
0
user7705385541593
سعد عبداللہ :
سعر
2026-10-13 21:27:24
0
ali9794418
Ali علي :
ممكن السعر
2026-10-13 21:51:10
0
f____a556
عامر بن علي :
بيش شكت سعره
2026-10-13 21:25:06
0
yosraaljumaili
يسرى الجميلي :
شكد سعرة بلازحمة
2026-10-13 22:36:52
0
ma_rtaza313
مرتضى المكصوصي :
شكد سعرة
2026-10-13 22:26:24
0
princessofsham45
اميرة الشام :
ممكن سعر
2026-10-13 21:50:08
0
ttek5421je6
حروف :
شكد سعرة وذاكرتة
2026-10-14 01:19:25
0
bahaa.s.f.a
bahaa s.f.a :
شكد سعره
2026-10-13 21:53:21
0
xo_ei4
سَچد ، :
منو كاعد اتابعه .؟
2026-10-13 22:40:56
0
user3201164917282
م.محمود البرزنجي :
سعر
2026-10-13 21:40:56
0
user10236044310550
ام رقية :
هونر الشركة ال احب هداياها 🥰صناعاتكم روعة خاصة الهدايا🥰
2026-10-13 21:08:47
0
123srag
🪄سراج :
تلفون يجنن عن تجربه
2026-10-13 21:09:00
3
a_sjwe1
AZZAM{ :
صلوا على محمد
2026-10-13 21:16:01
4
user7571309712044
بنت الموصل user7571309712044 :
شكد سعر
2026-10-13 21:07:29
0
user917923425799
ام سيف :
هيه المشكله مايكلون شكد السعر
2026-10-13 21:47:38
0
user8005118496683
Queen 👑❣️ :
شكد سعر ه
2026-10-13 22:05:42
0
To see more videos from user @honoriraq, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#ماں کی دعا — اللہ کی رحمت کا سایہ ماں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماں کی محبت بے غرض، اس کی شفقت بے مثال اور اس کی دعا دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی وہ صدا ہے جو انسان کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنتی ہے۔ جب ساری دنیا انسان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے، تب بھی ماں اپنے بچے کے لیے دعا کے ہاتھ اٹھائے کھڑی ہوتی ہے۔ اسلام میں والدین کی دعا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ترجمہ: ”اور تمہارے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“ (سورۃ الإسراء، آیت 23) ماں کی دعا کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے والدین کی نافرمانی کو بڑے گناہوں میں شمار فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) ماں جب اپنے بچے کے لیے دعا کرتی ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ اس میں برسوں کی محبت، قربانی، آنسو اور بے شمار راتوں کی بے خوابی شامل ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچے کی کامیابی، صحت، عزت، ایمان اور حفاظت کے لیے اللہ کے حضور التجا کرتی ہے۔ کبھی اس کی خاموش دعا وہ سکون بن جاتی ہے جس کی انسان کو زندگی کے مشکل ترین لمحوں میں ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ دعا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کے تابع ہے۔ ہر دعا کا نتیجہ لازماً ہماری خواہش کے مطابق اور اسی وقت ظاہر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور حکمت کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے۔ ماں کی زندگی میں اس کی قدر کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اس کی خدمت کرنا، اس کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اس کی دل آزاری سے بچنا ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ صرف ماں سے اپنے لیے دعائیں کروانا کافی نہیں، بلکہ ہمیں بھی اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ اور اگر کسی کی ماں دنیا سے رخصت ہو چکی ہو تو اس کے لیے نیکی اور دعا کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے، جن میں نیک اولاد کی دعا بھی شامل ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث 1631) اس لیے ماں کے انتقال کے بعد بھی اس کے لیے دعائے مغفرت کرنا، صدقہ کرنا اور اس کے ساتھ کیے گئے نیک تعلق کو برقرار رکھنا ایک مسلمان کے لیے باعثِ اجر ہے۔ یہ کہنا کہ ماں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ کی رحمت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کے قریب ہے، ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے۔ البتہ ماں کی موجودگی واقعی ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر اس کے ہوتے ہوئے کرنی چاہیے۔ اختتامیہ ماں کی دعا کو اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ سمجھیں۔ اس کے قدموں میں خدمت کا جذبہ رکھیں، اس کے لبوں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کریں اور اس کی زندگی میں اس کے لیے رحمت و سکون کا سبب بنیں۔ ماں زندہ ہو تو اس کی خدمت کو سعادت سمجھو، اور ماں دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کے لیے دعا کو اپنی محبت کا حصہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو صحت و عافیت عطا فرمائے، ان کی دعاؤں کو ہمارے حق میں خیر و برکت کا ذریعہ بنائے، اور جو مائیں دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
#ماں کی دعا — اللہ کی رحمت کا سایہ ماں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماں کی محبت بے غرض، اس کی شفقت بے مثال اور اس کی دعا دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی وہ صدا ہے جو انسان کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنتی ہے۔ جب ساری دنیا انسان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے، تب بھی ماں اپنے بچے کے لیے دعا کے ہاتھ اٹھائے کھڑی ہوتی ہے۔ اسلام میں والدین کی دعا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ترجمہ: ”اور تمہارے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“ (سورۃ الإسراء، آیت 23) ماں کی دعا کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے والدین کی نافرمانی کو بڑے گناہوں میں شمار فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) ماں جب اپنے بچے کے لیے دعا کرتی ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ اس میں برسوں کی محبت، قربانی، آنسو اور بے شمار راتوں کی بے خوابی شامل ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچے کی کامیابی، صحت، عزت، ایمان اور حفاظت کے لیے اللہ کے حضور التجا کرتی ہے۔ کبھی اس کی خاموش دعا وہ سکون بن جاتی ہے جس کی انسان کو زندگی کے مشکل ترین لمحوں میں ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ دعا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کے تابع ہے۔ ہر دعا کا نتیجہ لازماً ہماری خواہش کے مطابق اور اسی وقت ظاہر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور حکمت کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے۔ ماں کی زندگی میں اس کی قدر کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اس کی خدمت کرنا، اس کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اس کی دل آزاری سے بچنا ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ صرف ماں سے اپنے لیے دعائیں کروانا کافی نہیں، بلکہ ہمیں بھی اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ اور اگر کسی کی ماں دنیا سے رخصت ہو چکی ہو تو اس کے لیے نیکی اور دعا کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے، جن میں نیک اولاد کی دعا بھی شامل ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث 1631) اس لیے ماں کے انتقال کے بعد بھی اس کے لیے دعائے مغفرت کرنا، صدقہ کرنا اور اس کے ساتھ کیے گئے نیک تعلق کو برقرار رکھنا ایک مسلمان کے لیے باعثِ اجر ہے۔ یہ کہنا کہ ماں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ کی رحمت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کے قریب ہے، ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے۔ البتہ ماں کی موجودگی واقعی ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر اس کے ہوتے ہوئے کرنی چاہیے۔ اختتامیہ ماں کی دعا کو اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ سمجھیں۔ اس کے قدموں میں خدمت کا جذبہ رکھیں، اس کے لبوں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کریں اور اس کی زندگی میں اس کے لیے رحمت و سکون کا سبب بنیں۔ ماں زندہ ہو تو اس کی خدمت کو سعادت سمجھو، اور ماں دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کے لیے دعا کو اپنی محبت کا حصہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو صحت و عافیت عطا فرمائے، ان کی دعاؤں کو ہمارے حق میں خیر و برکت کا ذریعہ بنائے، اور جو مائیں دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

About