@gulfnewsupdates1: سڑک پر اپنی چار سالہ بیٹی کو کندھے پر اٹھائے قلم بیچنے والے باپ کی ایک تصویر وائرل ہوئی تو دنیا بھر کے لوگوں نے اس کی زندگی بدل دی، یہ واقعہ 2015 میں لبنان کے شہر بیروت میں پیش آیا، جہاں شامی پناہ گزین عبدالحمید العطار اپنی ننھی بیٹی کو ساتھ لیے سڑکوں پر قلم فروخت کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو لوگوں نے مدد کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کر دی، جس کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ 91 ہزار ڈالر جمع ہوئے۔ اس رقم سے عبدالحمید نے صرف اپنے خاندان کی زندگی ہی بہتر نہیں بنائی بلکہ بیروت میں بیکری، کباب شاپ اور ایک ریسٹورنٹ بھی شروع کیا، جہاں دیگر پناہ گزینوں کو بھی روزگار فراہم کیا گیا۔ ایک تصویر نے اس باپ کی مشکلات کم کرنے کے ساتھ اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع دیا اور ثابت کر دیا کہ انسانیت کے جذبے سے کی جانے والی چھوٹی سی کوشش بھی کسی کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔