Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@daarulxaajah: sh mustafa
Abdirahmaan mohamud mohamed
Open In TikTok:
Region: SO
Monday 12 October 2026 17:55:31 GMT
1373
178
4
11
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.95MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.27MB
)
Watermark .mp4 (
0.95MB
)
Music .mp3
Comments
SUUQ OPEN ONLINE :
masha alah
2026-10-12 18:20:48
0
xaawo :
[Gesture OK][Gesture OK][Gesture OK]
2026-10-12 17:58:46
0
@ ina apdi nur :
😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁
2026-10-12 17:57:46
0
faiza said :
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
2026-10-12 17:58:35
1
To see more videos from user @daarulxaajah, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#fyp #dota #dota2 #arcwarden
اللهم احفظنا جميعاً من شر الأشرار #دعاء_يريح_القلوب #دعاء #دعاء_الحفظ #احاديث_نبوية #ادعيه
#KPop #creatorsearchinsights #kdrama #سريع_الانتشار #kpop
#creatorsearchinsights #tkktok پاکستان کو اقتدار کی جنگ نہیں، معیشت کی فکر چاہیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگ گیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا جب ملک کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے۔ حکمران اس مسئلے پر کم اور اپنے اقتدار پر زیادہ توجہ دیتے نظر آتے ہیں۔ پہلے معیشت دیکھیں۔ بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی تقریباً 2500 ڈالر ہے۔ بھارت کی تقریباً 2700 ڈالر ہے۔ پاکستان کی فی کس آمدنی اس سے خاصی کم ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان ان دونوں سے آگے تھا۔ آج پیچھے ہے۔ پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے 24 پروگرام آ چکے ہیں۔ ہر حکومت قرض لیتی ہے اور اصلاحات اگلی حکومت پر چھوڑ دیتی ہے۔ 2023 میں مہنگائی 38 فیصد تک پہنچی۔ ورلڈ بینک کے مطابق تقریباً ایک چوتھائی آبادی قومی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ یہ کروڑوں لوگ ہیں۔ ان کے لیے سیاسی کھینچا تانی کا مطلب مہنگا آٹا اور مہنگی بجلی ہے۔ اب ترجیحات دیکھیں۔ حالیہ برسوں میں پارلیمنٹ نے آئینی ترامیم تیزی سے منظور کیں۔ چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم اس کی مثال ہیں۔ ان پر بحث کم ہوئی اور رفتار زیادہ تھی۔ سوال سادہ ہے۔ اتنی تیزی سے کتنے قوانین برآمدات بڑھانے کے لیے بنے؟ کتنے ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانے کے لیے بنے؟ کتنے سرکاری اداروں کے نقصان روکنے کے لیے بنے؟ اب گورنر راج کی تاریخ دیکھیں۔ 1973 سے اب تک سات بار صوبائی حکومت ہٹائی گئی۔ ان میں سے چھ بار پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یا صدر کے دور میں ہوا۔ ذوالفقار بھٹو نے دو بار لگایا۔ بے نظیر بھٹو نے ایک بار۔ آصف زرداری نے تین بار۔ ایک بار نواز شریف کی حکومت نے لگایا۔ جو جماعت جمہوریت کی علمبردار کہلاتی ہے، اس کا اپنا ریکارڈ یہ ہے۔ ہر بار وجہ بتائی گئی۔ امن و امان، سیاسی بحران، آئینی ناکامی۔ ہر بار اصل سوال یہی رہا کہ فیصلہ کس کے فائدے میں ہوا۔ اس کا معاشی نقصان بھی ہے۔ سرمایہ کار استحکام دیکھتا ہے۔ جس ملک میں منتخب حکومتیں اچانک ہٹ جائیں، وہاں کوئی لمبے منصوبے نہیں بناتا۔ خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی سے متاثر ہے۔ وہاں سیاسی بے یقینی بڑھے گی تو سرمایہ کاری کم ہو گی۔ روزگار کم ہو گا۔ نوجوان مایوس ہوں گے۔ ووٹر کا نقصان سب سے گہرا ہے۔ وہ ووٹ دیتا ہے اور نتیجہ بدل دیا جاتا ہے۔ پھر وہ ووٹ دینا چھوڑ دیتا ہے۔ جب ووٹر الگ ہوتا ہے تو ریاست اور عوام کا رشتہ ٹوٹتا ہے۔ اب راستہ کیا ہے۔ یہ پانچ کام فوری ہو سکتے ہیں۔ گورنر راج کا فیصلہ پارلیمنٹ میں کھلی بحث کے بعد پرکھا جائے۔ آئین دو ماہ دیتا ہے۔ اس مدت کو ٹالنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ تمام بڑی جماعتیں پانچ سالہ معاشی منصوبے پر لکھ کر اتفاق کریں۔ حکومت بدلے تو منصوبہ نہ بدلے۔ ٹیکس کا بوجھ تنخواہ دار طبقے سے ہٹا کر زراعت، رئیل اسٹیٹ اور بڑے کاروبار تک پھیلایا جائے۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے نجی شعبے کو دیے جائیں یا بند کیے جائیں۔ سالانہ نقصان اربوں روپے ہے۔ فوج، عدلیہ اور پارلیمنٹ اپنی آئینی حدود میں رہیں۔ ہر ادارے کا کردار آئین میں لکھا ہے۔ یہ سب مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ دنیا میں کئی ملکوں نے سیاسی اختلاف کے باوجود معاشی منصوبوں پر اتفاق کیا۔ ان کی ترقی کی وجہ یہی اتفاق تھا۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی ہے۔ زرخیز زمین ہے۔ ہنر مند محنت کش ہیں۔ جو چیز نہیں ہے وہ سیاسی استحکام ہے۔ حکمران طبقہ اگر یہ استحکام دینا چاہتا ہے تو اسے عوام کا مینڈیٹ ماننا ہو گا۔ پھر اسی مینڈیٹ پر معیشت کی بات کرنی ہو گی۔ اقتدار کی جنگ ختم کریں۔ میز پر بیٹھیں۔ معیشت کا حساب دیں۔ عوام اسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ #PTILongMarch #ہر_قدم_انقلاب_کی_طرف #pakistanpolitics
Girma tefera #viralvideo #ethiomusic #lyrics
#baby #bebe #1año #limon
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy