@hindsindauliya: حضرت شیخ خضر سیوستانی سے حضرت میاں میر کی ملاقات کا واقعہ بھی بڑا عجیب ہے۔ اس سلسلے میں خود حضرت میاں میرؒ فرماتے ہیں کہ جب میں والدہ محترمہ سے اجازت لے کر گھر سے باہر نکلا تو بے اختیار میرا رخ جنگل کی طرف ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں کوہِ سیوستان میں پہنچا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک گوشے میں ایک تنور موجود ہے جس کا منہ ڈھکا ہوا ہے۔ میں وہاں سے خاموشی کے ساتھ گزر جانا چاہتا تھا مگر یکایک میرے دل میں آئی کہ اس تنور کو کھول کر دیکھوں۔ پھر جب میں نے تنور کھولا تو وہ گرم تھا اور اس کے اندر ایک بڑا سا پتھر رکھا ہوا تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ کسی مردِ بزرگ کا مقام ہے۔ پھر میں نے اپنے دل میں عہد کر لیا کہ اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا، جب تک اس درویشِ خدا مست کی زیارت نہ کر لوں جس کا ٹھکانہ جنگل کا یہ ویران گوشہ ہے۔ شاید یہ اس مردِ بزرگ کی روحانی کشش تھی کہ میں اس مقام پر ٹھہر گیا جو خطرات سے بھرا ہوا تھا۔ حضرت میاں میرؒ فرماتے ہیں کہ دن تو کسی طرح گزر گیا مگر جب رات آئی تو محسوس ہوا کہ موسم بہت سخت ہے۔ سرد ہوائیں انسانی جسم کو منجمد کئے دیتی تھیں۔ دوسرے یہ کہ جنگلی جانوروں اور درندوں کی آوازیں آس پاس سنائی دے رہی تھیں۔ مگر کوئی میرے قریب نہیں آتا تھا۔ شاید یہ بھی اس مردِ بزرگ کی کرامت تھی کہ خوفناک درندے اس مقام سے دور دور ہی رہتے تھے۔ پھر جنگلی جانوروں کی ضرر رسانی کا خوف تو دور ہو گیا مگر سرد موسم نے اس قدر ستایا کہ میں کئی بار تنور کے قریب گیا اور چاہا کہ اسے کھول کر اندر بیٹھ جاؤں اور یخ بستہ ہواؤں کے تیز جھونکوں سے محفوظ ہو جاؤں۔۔۔۔۔ مگر ہر مرتبہ یہ سوچ کر لوٹ آیا کہ جو مقام کسی بزرگ کا ہو، وہاں اس طرح بیٹھنا بے ادبی ہے۔الغرض مجھے اس ویران جگہ پر پڑے ہوئے تین دن گزر گئے۔اور جن بزرگ کے دیدار کی تمنا تھی ان کا کوئی نام ونشان نہیں تھا۔ میں کسی دوسرے آباد علاقے میں جا کر اپنی بھوک اور پیاس مٹا سکتا تھا مگر اس خوف سے کہیں نہ جا سکا کہ اگر وہ بزرگ آ کر واپس چلے گئے اور میں موجود نہیں ہوا تو پھر اس محرومی کا علاج ممکن نہیں ہو گا۔ بھوک اور پیاس بڑھتی جا رہی تھی مگر اللہ نے غیب سے مجھے استقامت بخشی۔ آخر تین دن اور تین راتیں اسی عالم میں گزر گئے۔ اس دوران غذا کا کوئی لقمہ میرے حلق سے نیچے نہیں اترا اور نہ میں نے پانی کا ایک گھونٹ پیا، آخر تین دن بعد میری آزمائش بھی ختم ہوئی اور کشمکشِ انتظار بھی۔ آخر وہ مردِ بزرگ نمودار ہوئے اور تنور کی طرف آتے ہوئے نظر آئے۔ میں انہیں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ سردیوں کے سخت موسم میں صرف ایک تہبند پہنے ہوئے تھے۔ مجھے کسی دلیل اور گواہی کے بغیر یقین آ گیا کہ یہی وہ مردِ بزرگ ہو سکتے ہیں۔ وہ ضعیف العمر تھے اور ان کا جسم بہت لاغر و نحیف تھا مگر رفتار میں نوجوانوں سے زیادہ مضبوطی تھی۔ میں تنور سے کچھ فاصلے پر موجود تھا۔اس لئے بزرگ مجھے نہ دیکھ سکے ۔ وہ آئے اور خاموشی سے ایک پتھر پر بیٹھ گئے۔ میں نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا اور لرزتے قدموں سے آگے بڑھا۔ میرے پیروں کی یہ لرزش ان بزرگ کے ہیبت و جلال کے باعث تھی۔میں نے قریب پہنچ کر بزرگ کی خدمت میں سلام پیش کیا۔بزرگ نے میری طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور با آوازِ بلند فرمایا۔ ”وعلیکم السلام! میر محمد!“بزرگ کی زبانِ مبارک سے اپنا نام سن کر حیرت زدہ رہ گیا۔ اب ان کی روحانی عظمت اور روشن ضمیری میں کوئی کلام باقی نہیں رہ گیا تھا۔”کیسے ہو، میر محمد؟“ بزرگ نے دوبارہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔”شیخ کی دعاؤں کے طفیل تمام آفاتِ ارضی و سماوی سے محفوظ ہوں۔“ میں نے بعد احترام عرض کیا۔