ایک مرتبہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ راستے میں جا رہا تھا کہ انہوں نے بانسری (یا گانے بجانے) کی آواز سنی تو اپنے دونوں کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور راستے سے ہٹ گئے۔ وہ برابر یہی پوچھتے رہے: 'اے نافع! کیا تم اب بھی وہ آواز سن رہے ہو؟' میں کہتا رہا: 'ہاں۔' یہاں تک کہ جب میں نے کہا کہ اب وہ آواز نہیں آ رہی، تو انہوں نے کانوں سے انگلیاں نکالیں اور واپس راستے پر آ گئے۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ ﷺ نے بھی ایک بانسری (یا زامرۃ/باجا) کی آواز سن کر اسی طرح کیا تھا۔"
(سنن ابی داود: کتاب الأدب، باب في النهي عن الغناء، حدیث: 4924)