@userr3091720: #relateable #repost #xybzca

userr3091720
userr3091720
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 13 October 2026 04:57:29 GMT
2851
251
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @userr3091720, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حضرت جریر بن عبداللہ البجلی ؓ کا تاریخی واقعہ•••• السلام علیکم دوستو مسجدِ نبویؐ کا وہ پُرنور اور پرجوش منظر، جب صحابہ کرامؓ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے گرد بیٹھے تھے اور اچانک آقا کریم ﷺ نے آنے والے ایک ایسے مہمان کی آمد کی خوشخبری سنائی جس کے حسن اور عظمت کی گواہی تاریخ نے دی، اور وہ منظر دلوں میں اتر گیا۔ یہ ہجرت کا دسواں سال تھا۔ مکہ فتح ہو چکا تھا اور عرب کے کونے کونے سے وفود مدینہ منورہ آ رہے تھے۔ ایسے میں یمن کے ایک بہت بڑے اور بااثر قبیلے
حضرت جریر بن عبداللہ البجلی ؓ کا تاریخی واقعہ•••• السلام علیکم دوستو مسجدِ نبویؐ کا وہ پُرنور اور پرجوش منظر، جب صحابہ کرامؓ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے گرد بیٹھے تھے اور اچانک آقا کریم ﷺ نے آنے والے ایک ایسے مہمان کی آمد کی خوشخبری سنائی جس کے حسن اور عظمت کی گواہی تاریخ نے دی، اور وہ منظر دلوں میں اتر گیا۔ یہ ہجرت کا دسواں سال تھا۔ مکہ فتح ہو چکا تھا اور عرب کے کونے کونے سے وفود مدینہ منورہ آ رہے تھے۔ ایسے میں یمن کے ایک بہت بڑے اور بااثر قبیلے "بجیلہ" کے سردار، حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ اپنے 150 ساتھیوں کے ساتھ اسلام قبول کرنے کے لیے مدینہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہ نہ صرف ایک قبیلے کے سربراہ تھے بلکہ اپنے دور کے حسین ترین، طویل قامت اور وجیہہ انسان تھے، جنہیں لوگ 'یمن کا شہزادہ' بھی کہتے تھے۔ ​ایک دن رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مسجدِ نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ ﷺ نے گفتگو روک دی اور سب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: "ابھی اس دروازے سے تمہارے پاس یمن کا سب سے بہترین شخص داخل ہونے والا ہے، جس کے چہرے پر فرشتوں کے لمس کا نشان ہے (یعنی وہ بے حد خوبصورت اور بابرکت ہے)۔" ​کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ سن کر مسجدِ نبوی میں موجود صحابہ کرام پر کیا گزری ہو گی؟ سب کی نظریں بے صبری سے اس دروازے پر ٹک گئیں۔ ​کچھ ہی دیر گزری تھی کہ حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ اپنی سواری سے اترے، انہوں نے اپنے سفر کے لباس کو بدلا، بہترین لباس زیبِ تن کیا اور نہایت وقار اور رعب دار انداز میں مسجدِ نبوی کے اسی دروازے سے داخل ہوئے۔ مسجد میں موجود ہر شخص کی نظریں ان کے سراپے پر جم گئیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ انہیں اس طرح دیکھ رہے ہیں، تو انہوں نے قریب بیٹھے صحابی سے پوچھا: "اے بھائی! کیا اللہ کے رسول ﷺ نے میرے بارے میں کچھ فرمایا ہے؟" ​تب انہیں بتایا گیا کہ آقا کریم ﷺ نے ابھی ابھی ان کی آمد پر کتنی بڑی بشارت دی ہے! یہ سن کر حضرت جریر ؓ کا دل اپنے رب کے شکر سے بھر گیا اور انہوں نے آگے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور اسلام کی روشنی سے منور ہو گئے۔ ​لیکن کیا بیعت کے بعد ان کا یہ سفر ختم ہو گیا؟ یا ان کے اور آقا کریم ﷺ کے درمیان محبت کا ایک نیا باب شروع ہوا؟ ​حضرت جریر ؓ خود فرماتے ہیں کہ: "جب سے میں نے اسلام قبول کیا، آقا کریم ﷺ نے مجھے کبھی اپنے پاس آنے سے نہیں روکا، اور جب بھی وہ مجھے دیکھتے، ان کے مبارک چہرۂ انور پر ایک پیاری سی مسکراہٹ سج جاتی۔" یہ وہ خاص مقام تھا جو انہیں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاصل ہوا۔ ​ان کی دیانتداری اور دیانت کا یہ عالم تھا کہ جب انہوں نے اسلام قبول کیا، تو انہوں نے حضورِ اکرم ﷺ سے عہد کیا تھا کہ وہ ہر مسلمان کے خیر خواہ رہیں گے۔ ایک بار انہوں نے ایک گھوڑا خریدنے کے لیے اپنے خادم کو بھیجا، خادم نے وہ گھوڑا 300 درہم میں طے کیا۔ جب وہ شخص گھوڑا لے کر حضرت جریر ؓ کے پاس آیا، تو انہوں نے گھوڑے کی کوالٹی دیکھی اور اس کے مالک سے کہا: "تمہارا گھوڑا بہت اچھا ہے، یہ 300 درہم سے زیادہ کا ہے۔ کیا تم اسے 400 میں بیچو گے؟" مالک راضی ہو گیا۔ حضرت جریر ؓ نے پھر غور کیا اور کہا: "نہیں، یہ 500 کے لائق ہے۔" اور یوں وہ قیمت بڑھاتے بڑھاتے 800 درہم تک لے گئے اور اسے 800 درہم ادا کیے۔ ​جب لوگوں نے حیرت سے پوچھا کہ آپ نے اتنی زیادہ قیمت کیوں دی، جبکہ وہ 300 میں راضی تھا؟ تو اس عظیم صحابی نے کیا جواب دیا؟ ​انہوں نے فرمایا: "میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عہد کیا تھا کہ میں ہر مسلمان کا خیر خواہ رہوں گا، اور میں کسی مسلمان کا نقصان کر کے اپنا فائدہ نہیں کرنا چاہتا۔" سبحان اللہ! یہ تھا ان کا ایمان اور ان کا بلند اخلاق۔ ​حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کے حسن اور ان کی دانش مندی کے اس قدر معترف تھے کہ وہ انہیں 'امت کا یوسف' کہا کرتے تھے اور ان کی رائے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ​📚 حوالہ جات: صحیح بخاری (باب ذکر جریر) / صحیح مسلم / طبقات ابنِ سعد / حیاتِ صحابہ۔ ‎ مزید ایسی ایمان افروز احادیثِ مبارکہ، انبیاء کرام علیھم الصلاۃ والسلام اور صحابہ کرام علیھم الرضوان کے سبق آموز واقعات اور قرآنی آیات کے لیے ہمارے اس پیج کو لازمی فالو (Follow)، لائک اور شیئر (Share) کریں۔ جزاکم اللہ خیراً کثیراً محمد سعید احمد ••••••

About