@inteqal_yaar: کبھی کبھی انسان کو سب سے گہری چوٹ دشمنوں سے نہیں بلکہ اُن لوگوں سے ملتی ہے جنہیں وہ اپنا سمجھتا ہے۔ ایسی چوٹ جسم پر نہیں بلکہ دل پر لگتی ہے، اور اس کا درد الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ شعر ہمیں یہ بھی سمجھاتا ہے کہ ہر خاموش انسان بے فکر نہیں ہوتا۔ بعض لوگ اس لیے خاموش ہوتے ہیں کیونکہ وہ بہت کچھ سہہ چکے ہوتے ہیں اور اب اُن کے پاس اپنی تکلیف سمجھانے کے لیے الفاظ نہیں بچتے۔ ایک جملے میں اس شعر کا مفہوم: اپنوں کی دی ہوئی تکلیف انسان کو صرف رُلاتی نہیں، بلکہ کبھی کبھی اس کی آواز، اس کا اعتماد اور دل کی بات کہنے کی ہمت بھی چھین لیتی ہے۔ 💔