@melomystic1: Oh hell no here they come again! They have been contemplating their return into your life, knowing how destructive they were and how heartbroken they left you. They want to come back, they need you. They need something from you. They want something that you used to give them. That’s why they wanna come back now. They’re sitting there thinking of what to say, what to do, how to convince you, don’t believe them. The gaslighting will start once this person is in front of your face. They are going to try to convince you that they didn’t do what you know they did, stand your ground. They have been practicing and rehearsing this manipulation that they are about to lay on you, don’t fall for it. If you let them back, they will destroy everything that you built. They will take everything from you with a smile on their face. ##tarot##divination##narcissist##scammer##betrayal

MeloMystic
MeloMystic
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 13 October 2026 05:56:28 GMT
370
6
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @melomystic1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

”ایک احسان کر رہا ہوں، طلاق نہ دے کر تم جیسی کو۔۔۔بیوی بن کر رہنا چاہتی ہو تو اسٹور روم میں شفٹ ہو جاؤ۔“فہام نے نخوت سے کہا۔ اسے ایک بہت بڑی بزنس ڈیل ملی تھی، مگر بدلے میں اسے ڈیلر کی بیٹی سے شادی کرنا تھی۔مالا اس کی بیوی تھی مالا نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ باپ بننے والا تھا۔ گہری سانس لیتی وہ اس لمحے کا انتظار کرنے لگی جو اس نے فہام ملک کے لیے سوچ رکھا تھا۔”تم اتنا تیار ہو کر کیوں آئی ہو؟ میری شادی کی اتنی خوشی ہو رہی ہے؟“وہ مبہوت سا اسے دیکھنے لگا۔ آج مالا اسے حیران کر رہی تھی۔تھوڑی دیر بعد سب مہمان ہال میں جمع ہو گئے اور رسم شروع ہوئی۔ مالا کے لبوں پر  پراسرار مسکراہٹ پھیل گئی۔اچانک کئی لوگ ہال میں داخل ہوئے۔ فہام کا شک درست ثابت ہوا، ضرور کوئی گڑبڑ تھی۔ایک شخص آگے بڑھا اور بولا۔ ”مسٹر فہام! آپ اس وقت جس پراپرٹی پر کھڑے ہیں وہ مسز مالا کے نام ہے اور باقی تمام بزنس بھی۔۔۔“ ”مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔“ اس نے کوٹ صوفے پر پھینکتے ہوئے کہا۔ ”بیٹھو۔“ مالا کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ اس نے آہستہ سے کہا، ”میں بھی تمہیں کچھ بتانا چاہتی تھی۔۔۔۔“ ”پہلے میری بات سنو۔“ فہام نے اس کی بات کاٹ دی۔ مالا نے ایک نظر اپنے سجائے ہوئے میز کو دیکھا، جہاں موم بتی کی لو لرز رہی تھی، پھر اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی۔ فہام صوفے کے کنارے پر بیٹھ گیا اور کافی دیر تک اپنی انگلیاں مروڑتا رہا۔ مالا نے پہلی بار اسے اتنا بے چین دیکھا تھا، مگر اس بے چینی میں شرمندگی کا شائبہ تک نہیں تھا۔ وہ کسی ایسے آدمی کی طرح لگ رہا تھا جو اپنے فیصلے پر پہلے ہی مہر لگا چکا ہو اور اب صرف اطلاع دینے آیا ہو۔ ”مالا، میں سیدھی بات کروں گا۔ گھما پھرا کر کہنا مجھے آتا نہیں ہے۔“ ”کہو۔“ مالا کی آواز حیرت انگیز طور پر پرسکون تھی۔ ”مجھے ایک بہت بڑی ڈیل مل رہی ہے۔ یہ ڈیل میرے کاروبار کو پندرہ بیس سال آگے لے جا سکتی ہے۔ شہر کا سب سے بڑا ٹیکسٹائل ڈیلر، چوہدری رفیق، ہمارے ساتھ شراکت داری کرنا چاہتا ہے۔“ ”تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ یہ تو اچھی خبر ہے۔“ فہام نے نظریں چرا لیں۔ ”مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ایک شرط ہے۔“ مالا کا دل ایک لمحے کو رک گیا۔ اسے وہ پیغام یاد آیا۔ پاپا نے آپ کو خاص طور پر بلایا ہے۔ ”کیسی شرط؟“ ”وہ چاہتا ہے کہ میں اس کی بیٹی سے شادی کروں۔“ فہام نے ایک سانس میں کہہ دیا، جیسے کوئی بوجھ اتار پھینکا ہو۔ ”ثانیہ۔ پڑھی لکھی لڑکی ہے، بڑے خاندان کی ہے۔ یہ صرف ایک رسمی بندھن ہوگا، کاروباری بندھن۔ تمہارا اس میں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔“ کمرے میں ایسی خاموشی چھا گئی کہ مالا کو اپنے دل کی دھڑکن صاف سنائی دینے لگی۔ موم بتی کی لو لرز کر بجھ گئی اور ایک باریک سا دھواں چھت کی طرف اٹھا۔ ”تم۔۔ دوسری شادی کرنے جا رہے ہو؟“ ”کاروباری ضرورت ہے مالا، سمجھنے کی کوشش کرو۔“ ”کاروباری ضرورت؟“ مالا نے دھیرے سے دہرایا۔ ”تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا، فہام۔ نکاح کے دن، سب کے سامنے۔ تم نے کہا تھا کہ تمہیں دوسری شادی کی ضرورت ہی کیا ہے۔“ ”اس وقت حالات مختلف تھے۔“ ”اور آج حالات مختلف کیسے ہو گئے؟“ مالا کی آواز پہلی بار بلند ہوئی۔ ”تمہارے پاس سب کچھ ہے۔ دولت، کاروبار، گھر۔ تمہیں کس چیز کی کمی ہے؟“ فہام اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے میں ٹہلنے لگا۔ ”کمی؟ تمہیں پتہ بھی ہے کہ بزنس کی دنیا کیسے چلتی ہے؟ یہاں جذبات سے نہیں، سودوں سے کام چلتا ہے۔ تم نے آج تک کیا دیکھا ہے؟ ایک چھوٹے سے گھر سے نکل کر سیدھی میرے گھر میں آ گئیں۔ تمہیں کیا معلوم کہ مجھے کتنی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔“ ”جدوجہد؟“ مالا نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ ”تمہارے والد نے سب کچھ تمہارے نام کر دیا ہے۔ جدوجہد کون سی؟“ یہ جملہ فہام کے غرور پر کاری ضرب ثابت ہوا۔ اس کا چہرہ تمتما اٹھا۔ ”بس! بس کرو مالا۔“ وہ غرایا۔ ”تم نے مجھے ہمیشہ کم تر سمجھا ہے۔ ہر وقت تمہاری آنکھوں میں وہی شکایتیں، وہی سوال۔ میں تھک گیا ہوں تم سے۔“ ”میں نے تمہیں کم تر سمجھا؟“ مالا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ”میں نے تو تمہیں اپنا سب کچھ مانا تھا۔“ ”تو مان کر ہی رہو۔“ فہام نے سرد لہجے میں کہا۔ ”میں نے تمہیں طلاق نہیں دی، کیا یہ تمہارے لیے کم احسان ہے؟ ایک ایسی لڑکی کو
”ایک احسان کر رہا ہوں، طلاق نہ دے کر تم جیسی کو۔۔۔بیوی بن کر رہنا چاہتی ہو تو اسٹور روم میں شفٹ ہو جاؤ۔“فہام نے نخوت سے کہا۔ اسے ایک بہت بڑی بزنس ڈیل ملی تھی، مگر بدلے میں اسے ڈیلر کی بیٹی سے شادی کرنا تھی۔مالا اس کی بیوی تھی مالا نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ باپ بننے والا تھا۔ گہری سانس لیتی وہ اس لمحے کا انتظار کرنے لگی جو اس نے فہام ملک کے لیے سوچ رکھا تھا۔”تم اتنا تیار ہو کر کیوں آئی ہو؟ میری شادی کی اتنی خوشی ہو رہی ہے؟“وہ مبہوت سا اسے دیکھنے لگا۔ آج مالا اسے حیران کر رہی تھی۔تھوڑی دیر بعد سب مہمان ہال میں جمع ہو گئے اور رسم شروع ہوئی۔ مالا کے لبوں پر پراسرار مسکراہٹ پھیل گئی۔اچانک کئی لوگ ہال میں داخل ہوئے۔ فہام کا شک درست ثابت ہوا، ضرور کوئی گڑبڑ تھی۔ایک شخص آگے بڑھا اور بولا۔ ”مسٹر فہام! آپ اس وقت جس پراپرٹی پر کھڑے ہیں وہ مسز مالا کے نام ہے اور باقی تمام بزنس بھی۔۔۔“ ”مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔“ اس نے کوٹ صوفے پر پھینکتے ہوئے کہا۔ ”بیٹھو۔“ مالا کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ اس نے آہستہ سے کہا، ”میں بھی تمہیں کچھ بتانا چاہتی تھی۔۔۔۔“ ”پہلے میری بات سنو۔“ فہام نے اس کی بات کاٹ دی۔ مالا نے ایک نظر اپنے سجائے ہوئے میز کو دیکھا، جہاں موم بتی کی لو لرز رہی تھی، پھر اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی۔ فہام صوفے کے کنارے پر بیٹھ گیا اور کافی دیر تک اپنی انگلیاں مروڑتا رہا۔ مالا نے پہلی بار اسے اتنا بے چین دیکھا تھا، مگر اس بے چینی میں شرمندگی کا شائبہ تک نہیں تھا۔ وہ کسی ایسے آدمی کی طرح لگ رہا تھا جو اپنے فیصلے پر پہلے ہی مہر لگا چکا ہو اور اب صرف اطلاع دینے آیا ہو۔ ”مالا، میں سیدھی بات کروں گا۔ گھما پھرا کر کہنا مجھے آتا نہیں ہے۔“ ”کہو۔“ مالا کی آواز حیرت انگیز طور پر پرسکون تھی۔ ”مجھے ایک بہت بڑی ڈیل مل رہی ہے۔ یہ ڈیل میرے کاروبار کو پندرہ بیس سال آگے لے جا سکتی ہے۔ شہر کا سب سے بڑا ٹیکسٹائل ڈیلر، چوہدری رفیق، ہمارے ساتھ شراکت داری کرنا چاہتا ہے۔“ ”تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ یہ تو اچھی خبر ہے۔“ فہام نے نظریں چرا لیں۔ ”مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ایک شرط ہے۔“ مالا کا دل ایک لمحے کو رک گیا۔ اسے وہ پیغام یاد آیا۔ پاپا نے آپ کو خاص طور پر بلایا ہے۔ ”کیسی شرط؟“ ”وہ چاہتا ہے کہ میں اس کی بیٹی سے شادی کروں۔“ فہام نے ایک سانس میں کہہ دیا، جیسے کوئی بوجھ اتار پھینکا ہو۔ ”ثانیہ۔ پڑھی لکھی لڑکی ہے، بڑے خاندان کی ہے۔ یہ صرف ایک رسمی بندھن ہوگا، کاروباری بندھن۔ تمہارا اس میں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔“ کمرے میں ایسی خاموشی چھا گئی کہ مالا کو اپنے دل کی دھڑکن صاف سنائی دینے لگی۔ موم بتی کی لو لرز کر بجھ گئی اور ایک باریک سا دھواں چھت کی طرف اٹھا۔ ”تم۔۔ دوسری شادی کرنے جا رہے ہو؟“ ”کاروباری ضرورت ہے مالا، سمجھنے کی کوشش کرو۔“ ”کاروباری ضرورت؟“ مالا نے دھیرے سے دہرایا۔ ”تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا، فہام۔ نکاح کے دن، سب کے سامنے۔ تم نے کہا تھا کہ تمہیں دوسری شادی کی ضرورت ہی کیا ہے۔“ ”اس وقت حالات مختلف تھے۔“ ”اور آج حالات مختلف کیسے ہو گئے؟“ مالا کی آواز پہلی بار بلند ہوئی۔ ”تمہارے پاس سب کچھ ہے۔ دولت، کاروبار، گھر۔ تمہیں کس چیز کی کمی ہے؟“ فہام اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے میں ٹہلنے لگا۔ ”کمی؟ تمہیں پتہ بھی ہے کہ بزنس کی دنیا کیسے چلتی ہے؟ یہاں جذبات سے نہیں، سودوں سے کام چلتا ہے۔ تم نے آج تک کیا دیکھا ہے؟ ایک چھوٹے سے گھر سے نکل کر سیدھی میرے گھر میں آ گئیں۔ تمہیں کیا معلوم کہ مجھے کتنی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔“ ”جدوجہد؟“ مالا نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ ”تمہارے والد نے سب کچھ تمہارے نام کر دیا ہے۔ جدوجہد کون سی؟“ یہ جملہ فہام کے غرور پر کاری ضرب ثابت ہوا۔ اس کا چہرہ تمتما اٹھا۔ ”بس! بس کرو مالا۔“ وہ غرایا۔ ”تم نے مجھے ہمیشہ کم تر سمجھا ہے۔ ہر وقت تمہاری آنکھوں میں وہی شکایتیں، وہی سوال۔ میں تھک گیا ہوں تم سے۔“ ”میں نے تمہیں کم تر سمجھا؟“ مالا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ”میں نے تو تمہیں اپنا سب کچھ مانا تھا۔“ ”تو مان کر ہی رہو۔“ فہام نے سرد لہجے میں کہا۔ ”میں نے تمہیں طلاق نہیں دی، کیا یہ تمہارے لیے کم احسان ہے؟ ایک ایسی لڑکی کو

About