@waldyaurora96: Sumpah wangi banget #miniso #parfumminiso #jasmine #fyp

Waldy Aurora96✨
Waldy Aurora96✨
Open In TikTok:
Region: ID
Tuesday 13 October 2026 10:27:06 GMT
216
7
5
9

Music

Download

Comments

waldyaurora96
Waldy Aurora96✨ :
Asli ini wangi poll
2026-10-14 06:55:45
0
template_viral2024
Utun😍 :
wangi bgt ini aku juga punya
2026-10-14 12:02:09
0
khanyokhana0909
Tete Zayana :
sumpah wangi banget ini aku udah punya
2026-10-14 12:06:39
0
chanya.han.tampom
Chanya Han Tampoma :
miniso mah emang parfumnya wangi banget
2026-10-14 12:05:23
0
tokowaldy2
Chaniya shop69 :
wangi sihh ini
2026-10-13 11:06:35
0
To see more videos from user @waldyaurora96, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تحریکِ ل ب ی ک پاکستان کے کارکنوں کی تربیت کے حوالے سے مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے جو بات کی ہے،بالکل صحیح کی ہے مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سمجھدانی چھوٹی ہے جس کی وجہ سے سمجھ دیر سے آتی ہے تحریک ل ب ی ک صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک مذہبی شناخت رکھنے والی جماعت بھی ہے، اس لیے اس کے کارکنوں کے رویے اور طرز گفتگو کا اثر صرف سیاست پر نہیں بلکہ مذہبی ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ جب ہماری پہچان مذہب کے حوالے سے ہو تو ہماری ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ کارکنوں میں جذبات ہونا اپنی جگہ، لیکن ہر اختلاف کو دشمنی سمجھنا، دوسروں کی بات سننے کو تیار نہ ہونا اور مخالفین کے خلاف سخت زبان استعمال کرنا یقیناً ایسے رویّے ہیں جن کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے اور اصلاح ہونی بھی چاہیے گاؤں دیہات میں جاکر دیکھیں تو بعض لوگوں کے اندر اختلافِ رائے برداشت کرنے کا حوصلہ تک ختم ہوتا جا رہا ہے۔دوسروں کو جب تک کافر ڈکلیئر نہ کر لیں آرام ہی نہیں آتا  لہذا جہاں اصلاح کی ضرورت ہو وہاں اصلاح کی بات قبول بھی کی جائے۔  حکومت کے سامنے حق بات کہنا بھی ضروری ہے، لیکن اپنے کارکنوں کی تربیت کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ دونوں معاملات کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا درست نہیں۔ اور جو لوگ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی مثال دیتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنی عوام کو ساتھ لیکر چلتے ہیں آگے بڑھ کر معاملات سنبھالتے ہیں، انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کے کارکن اپنے قائد سے محبت اور ان کی عزت کتنی کرتے ہیں۔وہ تو ان پر اپنی جان تک قربان کرنا چاہتے ہیں دوسری طرف ہمارے ہاں صورتِ حال یہ ہے کہ مفتی منیب الرحمٰن صاحب جیسے بزرگ اگر بیماری کے عالم میں بھی اپنی بساط کے مطابق کوششیں کر رہے ہوں، تب بھی ہم ان کی قدر کرنے کے بجائے ان پر تنقید کے تیر برسانے لگتے ہیں۔ ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھیے کہ ہم اپنے بڑوں کو عزت کتنی دیتے ہیں اور ان سے توقعات کتنی رکھتے ہیں اپنے ہی بزرگوں کے خلاف محاذ بنانا، ان کی پگڑیاں اچھالنا اور پھر یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر موقع پر ہمارے لیے کھڑے ہوں، آخر یہ کہاں کا انصاف ہے؟ دوسروں کی مثالیں دینے سے پہلے اپنے رویّوں کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بڑوں کو بڑے معاملات دیکھنے دینے چاہییں اور خود اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ ہم اپنے علاقوں میں دین کی تعلیم، نوجوانوں کی اصلاح اور لوگوں کے اخلاق بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ ہر بات پر بحث کرنا اور ہر اختلاف کو سوشل میڈیا پر لے آنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے  ✍️غلام ربانی  13/اکتوبر/2026
تحریکِ ل ب ی ک پاکستان کے کارکنوں کی تربیت کے حوالے سے مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے جو بات کی ہے،بالکل صحیح کی ہے مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سمجھدانی چھوٹی ہے جس کی وجہ سے سمجھ دیر سے آتی ہے تحریک ل ب ی ک صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک مذہبی شناخت رکھنے والی جماعت بھی ہے، اس لیے اس کے کارکنوں کے رویے اور طرز گفتگو کا اثر صرف سیاست پر نہیں بلکہ مذہبی ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ جب ہماری پہچان مذہب کے حوالے سے ہو تو ہماری ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ کارکنوں میں جذبات ہونا اپنی جگہ، لیکن ہر اختلاف کو دشمنی سمجھنا، دوسروں کی بات سننے کو تیار نہ ہونا اور مخالفین کے خلاف سخت زبان استعمال کرنا یقیناً ایسے رویّے ہیں جن کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے اور اصلاح ہونی بھی چاہیے گاؤں دیہات میں جاکر دیکھیں تو بعض لوگوں کے اندر اختلافِ رائے برداشت کرنے کا حوصلہ تک ختم ہوتا جا رہا ہے۔دوسروں کو جب تک کافر ڈکلیئر نہ کر لیں آرام ہی نہیں آتا لہذا جہاں اصلاح کی ضرورت ہو وہاں اصلاح کی بات قبول بھی کی جائے۔ حکومت کے سامنے حق بات کہنا بھی ضروری ہے، لیکن اپنے کارکنوں کی تربیت کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ دونوں معاملات کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا درست نہیں۔ اور جو لوگ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی مثال دیتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنی عوام کو ساتھ لیکر چلتے ہیں آگے بڑھ کر معاملات سنبھالتے ہیں، انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کے کارکن اپنے قائد سے محبت اور ان کی عزت کتنی کرتے ہیں۔وہ تو ان پر اپنی جان تک قربان کرنا چاہتے ہیں دوسری طرف ہمارے ہاں صورتِ حال یہ ہے کہ مفتی منیب الرحمٰن صاحب جیسے بزرگ اگر بیماری کے عالم میں بھی اپنی بساط کے مطابق کوششیں کر رہے ہوں، تب بھی ہم ان کی قدر کرنے کے بجائے ان پر تنقید کے تیر برسانے لگتے ہیں۔ ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھیے کہ ہم اپنے بڑوں کو عزت کتنی دیتے ہیں اور ان سے توقعات کتنی رکھتے ہیں اپنے ہی بزرگوں کے خلاف محاذ بنانا، ان کی پگڑیاں اچھالنا اور پھر یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر موقع پر ہمارے لیے کھڑے ہوں، آخر یہ کہاں کا انصاف ہے؟ دوسروں کی مثالیں دینے سے پہلے اپنے رویّوں کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بڑوں کو بڑے معاملات دیکھنے دینے چاہییں اور خود اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ ہم اپنے علاقوں میں دین کی تعلیم، نوجوانوں کی اصلاح اور لوگوں کے اخلاق بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ ہر بات پر بحث کرنا اور ہر اختلاف کو سوشل میڈیا پر لے آنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے ✍️غلام ربانی 13/اکتوبر/2026

About