@itssmfakhri: حضرت زینبؑ کے حرم میں داخل ہوتے ہوئے امیر نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”ساتھیو! میں ایک دعا مانگتا ہوں، تم سب آمین کہنا۔ یا حضرت زینبؑ! اگر مجھے شہادت نصیب ہو جائے تو میری ماں کو صبر عطا فرمانا۔“ اسی دوران ان کے ایک ساتھی کو گولی لگی اور وہ زمین پر گر پڑے۔ داعش کا ایک سنائپر انہیں نشانہ بنائے ہوئے تھا اور کسی کو ان کے قریب نہیں جانے دے رہا تھا۔ جو بھی انہیں بچانے کی کوشش کرتا، وہ اسے بھی گولی مار دیتا۔ امیر نے زخمی ساتھی کو بچانے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے ساتھیوں نے انہیں روکتے ہوئے کہا: ”امیر، مت جاؤ!“ مگر امیر نے جواب دیا: ”نہیں، محمد کے دو بچے ہیں، مجھے اسے بچانے جانا ہوگا۔“ ”یا حیدر! یا حیدر!“ کا نعرہ لگاتے ہوئے امیر پوری رفتار سے گولیوں کی بوچھاڑ میں محمد تک پہنچ گئے تاکہ انہیں وہاں سے نکال کر محفوظ مقام پر لے آئیں۔ شدید خطرے کے باوجود، وہ کسی نہ کسی طرح محمد کو گھسیٹتے ہوئے واپس لے آئے۔ اس دوران سنائپر کی گولی امیر کے کان پر لگی تھی اور ان کے کان سے خون بہہ رہا تھا۔ محمد خود بھی زخمی تھے، لیکن امیر وقفے وقفے سے انہیں حوصلہ دیتے اور تسلی دیتے رہے۔ پھر انہوں نے اپنی چفّیہ محمد کے سر کے گرد باندھ دی تاکہ خون بہنا کم ہو جائے۔ لڑائی اب اس مرحلے پر پہنچ چکی تھی کہ دشمن آمنے سامنے آ گئے تھے۔ اسی دوران دشمن کے ایک سپاہی نے دستی بم پھینکا، جو دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس کے ٹکڑے امیر کو لگے اور یوں ان کی دیرینہ آرزو پوری ہو گئی؛ انہیں شہادت نصیب ہوئی۔ امیر لطفی، محمد اینانلو اور عبداللہ جعفری کی یاد میں۔ 20 مہر 1405 ہجری شمسی (ایرانی تقویم)