تشریح:
شاعر کہتا ہے کہ اے انسان! تو نے جو اپنے سر پر علم، مرتبے یا دنیاوی بڑائی کا عمامہ سجا رکھا ہے، اور جو اپنی ذات (میں یعنی میم) کے پردے میں چھپا ہوا ہے، ذرا اسے اپنے سر سے اتار کر تو دیکھ۔ جب تو اپنی اس ظاہری خودی، گھمنڈ اور 'میں' کو ختم کرے گا، تو تجھے اپنے اندر اور اس کائنات کے ذرے ذرے میں صرف ایک ہی سچی ذات یعنی اللہ (الف) جلوہ گر نظر آئے گی۔
یہ دراصل "فنا" (اپنی ذات کو ختم کرنے) اور "بقا" (خدا کی ذات
2026-10-19 20:13:22
7
🇵🇰☠️😊شریف الدین😊☠️🇴🇲 :
میم سے الف تک کا سفر ہی دراصل خود سے خدا تک کا سفر ہے، لاجواب تحریر!"
2026-10-19 14:59:28
3
Tahira zulfiqar :
بھای یہ بات اپ سمجھتے ہیں
پر یہ نہیں سمجھتے
میم پر عمامہ رب نے خود لگایا ہے
اپنے محبوب کو بلند کرنے کے لیے
یہ بات نہیں سمجھ سکتے 💖
2026-10-16 13:18:45
5
Mehfooz Ahmed :
such deep words
2026-10-14 17:50:32
1
Shani khan . zindgi g. :
BY Shuqq Huqq ha Such ha Saahin Oo Hoo Rubbaa 🩸
2026-10-24 11:08:57
1
AA aloone :
راز کے ھے بات ھر کوئے نھے سمجھے گا احمد
اپنے وجود کو پاک کر