@rangesukhan: کوئی سمجھائے یہ کیا رنگ ہے مے خانے کا آنکھ ساقی کی اُٹھے نام ہو پیمانے کا کس کو معلوم تھی پہلے سے خرد کی قیمت عالمِ ہوش پہ احسان ہے دیوانے کا گرمیِ شمع کا افسانہ سنانے والو رقص دیکھا نہیں تم نے ابھی پروانے کا کم نگاہی سے مری سمت سرِ بزم نہ دیکھ سلسلہ ٹوٹ نہ جائے کہیں افسانے کا چشمِ ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے راستہ بھول نہ جاؤں کہیں می خانے کا اب تو ہر شام گزرتی ہے اسی کوچے میں یہ نتیجہ ہوا ناصح تِرے سمجھانے کا یوں ہی آبادیاں پھیلیں تو کسی دن شاید راستہ ہی نہ رہے شہر سے ویرانے کا منزلِ غم سے گزرنا تو ہے آساں اقبالؔ عشق ہے نام خود اپنے سے گزر جانے کا اقبال صفی پوری صفی پور کے ایک ایسے شاعر جن کے نام سے زیادہ گرچہ آشنا نہ ہوں پر ان کے کلام سے ہر کوئی آشنا ہے جنہوں نے "مشہوری غزل "دل پہ زخم کھاتے ہیں کہی ہے۔ اور اب یہ غزل پیش ہے جسے غلام علی نے اپنی آواز میں دی ہے #trending #foryou #ghulamali #urdupoetry #lovepoetry
کوئی سمجھائے یہ کیا رنگ ہے میخانے کا
انکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا
کس کو معلوم تھے پہلے سے خرد کی قیمت
عالم ہوش پہ احسان ہے دیوانے کا
گرمی شمع کا افسانہ سنانے والو
رقص دیکھا نہیں تم نے ابھی پروانے کا
کم نگاہی سے میری سمت کا سر بزم نہ دیکھ
سلسلہ ٹوٹ نہ جائے کہیں افسانے کا
چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد اتی ہے
راستہ بھول نہ جاؤں کہیں میں میخانے کا
اب تو ہر شام گزرتی ہے اس کوچے میں
یہ نتیجہ ہوا ناصح تیرے سمجھانے کا
یوں ہی ابادیاں پھیلی تو کسی دن شاید
راستہ ہی نہ رہے شہر سے ویرانے کا
منزل غم سے گزرتا تو ہے اساں ایاز
عشق ہے نام خود اپنے سے گزر جانے کا
2026-10-14 02:21:44
2
To see more videos from user @rangesukhan, please go to the Tikwm
homepage.