آج کے اُن علماء اور مولویوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے جو دین کا علم رکھنے کے باوجود مظلوم کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے اور ظالم کے ظلم پر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
وَلَا تَكْتُمُوا الْحَقَوَأَنْتُمْتَعْلَمُونَ: حق کو نہ چھپاؤ، جبکہ تم جانتے ہو۔ (سورۃ البقرہ: 42)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔ (سنن ابی داؤد: 4344)
یاد رکھیں! دین صرف نماز، روزے اور وعظ کا نام نہیں، بلکہ حق کا ساتھ دینا، مظلوم کی حمایت کرنا اور ظالم کو ظلم سے روکنا بھی دین کا تقاضا ہے۔ جو عالم حق جانتے ہوئے اپنے مفاد کی خاطر اسے چھپاتا یا ظالم کی حمایت کرتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ڈرنا چاہیے۔ البتہ ہر خاموش شخص کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے؛ اصل جواب دہی اللہ کے ہاں ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کہنے، حق کا ساتھ دینے اور ظلم کے خلاف حکمت و جرأت کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔