انداز کیا ہی نہیں تجھے میری اہمیت شاید اس لیے کبھی محسوس نہ ہو سکی کیونکہ میں نے ہمیشہ خود کو تمہارے لیے حاضر رکھا میں نے کبھی اپنی راستے میں نہیں بدلا میں کبھی خاموشی کو سزا نہیں بنایا کبھی اپنی موجودگی کو تم پر پوچھ رہی ہونے دیا نے جب بھی پلٹ کر دیکھا اسی انتظار میں اسی خلوص کے ساتھ اسی یقین کے ساتھ کہ شاید ایک دن تم سمجھو گے کہ جو انسان ہمیشہ سامنے کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی غلطی یعنی ہوتی ہے جو اپنی محبت کو کتنا عام بنا دیتا ہے کہ وہ سامنے والا اسے حق سمجھنے لگتا ہے احساس نہیں کہ شاید اگر میں بھی کبھی بے نفی اختیار کرتی ہوں تبھی تمہاری پکار پر خاموش رہتی کبھی اپنی توجہ واپس کھینچ لیتی تو تمہیں اندازہ ہوتا کہ کسی کے مسلسل ساتھ رہنے میں کتنی محبت چھپی ہوتی