@kashifraahi4033: ہائے، کیا دل کو قیامت کا سفر یاد آیا شام سے اہلِ مدینہ کا گزر یاد آیا جلتے خیموں سے نکلتے ہوئے شہزادیوں کو صحنِ مسجد میں نکلتا ہوا در یاد آیا جب لیے مشک سوئے علقمہ نکلے عباس کانپ اٹھی روحِ زمیں، کانپ اٹھا عرشِ علی سرِ زنداں جو سکینہ کو وہ سر یاد آیا جب دکھائی دیا اصغر کا بدن نیزے پر آلِ احمد کو رسالت کا ثمر یاد آیا خون روتا تھا جگر سیدِ عابد کا عدن جب کبھی ان کو سکینہ کا سفر یاد آیا