@imamali_5_12: FARMAN E IMAM ALI AS 🚩 . "الدُّنْيَا جِيفَةٌ، فَمَنْ أَرَادَهَا فَلْيَصْبِرْ عَلَى مُجَاوَرَةِ الْكِلَابِ . "دنیا ایک لاش کی طرح ہے، اور جو اسے حاصل کرنا چاہتا ہے وہ کتوں کی طرح ہے . The world is a corpse, so whoever desires it must endure the company of dogs." [1] . اس حکمت کا بنیادی مفہوم (Core Meaning) • Arabic Concept: لفظ "جِيفَةٌ" (جیفہ) عربی میں ایسے مردار یا لاش کو کہتے ہیں جس سے بدبو آ رہی ہو۔ مولا علیؑ نے دنیا کی مادی لذتوں کی عارضی اور فانی حیثیت کو اس لفظ سے واضح فرمایا۔ • English Context: انگریزی میں "company of dogs" (کتوں کی رفاقت) سے مراد وہ معاشرتی جنگ اور کھینچا تانی ہے جو دنیا دار لوگ ایک دوسرے سے مال و عہدہ چھیننے کے لیے ہر وقت جاری رکھتے ہیں