@bquyn_005: Sạc dự phòng không dây 10000mAh TRUSVOLT #vzone #trusvolt #pinsacduphong #sacmagsafe #tiktokshop

kitty
kitty
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 14 October 2026 10:26:06 GMT
286
4
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @bquyn_005, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

من الداخل. بدلاً من التركيز على ما ينقصك، ابدأ بتقدير ما تملكه الآن. • تمرين بسيط: دوّن كل يوم ثلاثة أشياء بسيطة جعلتك تبتسم (كوب قهوة، رسالة من صديق، أو حتى لحظة هدوء). هذا يدرب عقلك على رصد الإيجابيات وسط الضجيج. • توقف عن المقارنة: تذكر أن وسائل التواصل الاجتماعي تعرض
من الداخل. بدلاً من التركيز على ما ينقصك، ابدأ بتقدير ما تملكه الآن. • تمرين بسيط: دوّن كل يوم ثلاثة أشياء بسيطة جعلتك تبتسم (كوب قهوة، رسالة من صديق، أو حتى لحظة هدوء). هذا يدرب عقلك على رصد الإيجابيات وسط الضجيج. • توقف عن المقارنة: تذكر أن وسائل التواصل الاجتماعي تعرض "أفضل اللقطات" فقط، فلا تقارن كواليس حياتك المتعبة بعروض الآخرين المثالية. 2. إدارة العقل والمشاعر أفكارك هي التي تلون عالمك؛ إذا كانت سوداوية، سيصبح العالم باهتًا. • عش اللحظة: القلق هو عيش في المستقبل الذي لم يأتِ بعد، والندم هو عيش في الماضي الذي انتهى. ركز على "الآن". • تقبل المشاعر: الحياة ليست سعادة دائمة. من الطبيعي أن تحزن أو تغضب، تقبل هذه المشاعر وأعطِ نفسك حقها في التعبير ثم امضِ قدمًا. 3. الاستثمار في العلاقات الإنسان كائن اجتماعي بطبعه، وجود دائرة داعمة هو سر الصمود النفسي. • النوعية لا الكمية: صديق واحد حقيقي يفهم صمتك خير من مئة صديق للمجاملات. • العطاء: مساعدة الآخرين تعزز هرمونات السعادة (الإندورفين). اصنع يومًا جميلًا لشخص آخر، وستجد أن يومك أصبح أجمل تلقائيًا. #outfitideast #مشاهير_تيك_توك_مشاهير_العرب 💜🌺 #اخوتي #الشعب_الصيني_مال #fypシ゚vira
:راتوں کو جب نیند روٹھ جائے تو پاس سوئے لوگوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر یہ کیسے اتنی آسانی سے سو جاتے ہیں۔ دل چاہتا ہے وہ پرانی راتیں لوٹ آئیں جب میں وقت پر سو جایا کرتا تھا، جب نیند کے لیے کسی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی تھی نہ ہی سوچوں کے بے کنار سمندر سے گزرنا پڑتا تھا۔ بس بستر پر جاتے ہی ایک گہری بے فکری نیند اپنی آغوش میں لے لیتی تھی اور دنیا سے کوئی سروکار نہ رہتا تھا۔ نرم تکیے پر سر رکھتے ہی سكون مل جاتا تھا اور نیند اس قدر عزیز تھی کہ اس سے بڑھ کر کچھ بھی پسندیدہ نہ تھا۔ ہر خوشی ہر تقریب ہر مصروفیت سے زیادہ قیمتی میرے لیے نیند ہی ہوا کرتی تھی۔ پھر ایک دن زندگی نے کروٹ لی اور سب کچھ بدل گیا۔ رنگ ماند پڑ گئے، ترتیب بکھر گئی معنی کھو گئے، اور رویوں میں اجنبیت سی آ گئی۔ یوں لگا جیسے میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے اندر کی روشنی بجھا دی ہو۔ سب سے پہلے اپنا پن کھویا پھر سکون پھر اپنی ذات اپنی خوشیاں اور وہ سب رونقیں جو مجھ سے وابستہ تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں ہمیشہ رشتوں کو سنبھالنے اور اپنانے کی کوشش میں کہیں نہ کہیں ہار گیا، اور یہ بھی سمجھ آ گیا کہ کسی کو زبردستی اپنا نہیں بنایا جا سکتا۔ اب حال یہ ہے کہ نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہو چکی ہے، اور بے چینی نے ٹھکانہ بنا لیا ہے۔ مگر کہیں دل کے کسی کونے میں یہ یقین بھی ہے کہ ایک دن یہ درد یہ اذیت یہ بے سکونی ختم ہو جائے گی۔ شاید اس دن جب میں اپنے اصل گھر لوٹ جاؤں گا، دو گز زمین کے نیچے سفید کفن میں لپٹا دنیا کی ساری تھکن اور دکھ یہیں چھوڑ کر۔ تب شاید کچھ لوگ سکون سے سو جائیں گے، اور کچھ کی آنکھوں سے نیند ہمیشہ کے لیے چھن جائے گ
:راتوں کو جب نیند روٹھ جائے تو پاس سوئے لوگوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر یہ کیسے اتنی آسانی سے سو جاتے ہیں۔ دل چاہتا ہے وہ پرانی راتیں لوٹ آئیں جب میں وقت پر سو جایا کرتا تھا، جب نیند کے لیے کسی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی تھی نہ ہی سوچوں کے بے کنار سمندر سے گزرنا پڑتا تھا۔ بس بستر پر جاتے ہی ایک گہری بے فکری نیند اپنی آغوش میں لے لیتی تھی اور دنیا سے کوئی سروکار نہ رہتا تھا۔ نرم تکیے پر سر رکھتے ہی سكون مل جاتا تھا اور نیند اس قدر عزیز تھی کہ اس سے بڑھ کر کچھ بھی پسندیدہ نہ تھا۔ ہر خوشی ہر تقریب ہر مصروفیت سے زیادہ قیمتی میرے لیے نیند ہی ہوا کرتی تھی۔ پھر ایک دن زندگی نے کروٹ لی اور سب کچھ بدل گیا۔ رنگ ماند پڑ گئے، ترتیب بکھر گئی معنی کھو گئے، اور رویوں میں اجنبیت سی آ گئی۔ یوں لگا جیسے میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے اندر کی روشنی بجھا دی ہو۔ سب سے پہلے اپنا پن کھویا پھر سکون پھر اپنی ذات اپنی خوشیاں اور وہ سب رونقیں جو مجھ سے وابستہ تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں ہمیشہ رشتوں کو سنبھالنے اور اپنانے کی کوشش میں کہیں نہ کہیں ہار گیا، اور یہ بھی سمجھ آ گیا کہ کسی کو زبردستی اپنا نہیں بنایا جا سکتا۔ اب حال یہ ہے کہ نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہو چکی ہے، اور بے چینی نے ٹھکانہ بنا لیا ہے۔ مگر کہیں دل کے کسی کونے میں یہ یقین بھی ہے کہ ایک دن یہ درد یہ اذیت یہ بے سکونی ختم ہو جائے گی۔ شاید اس دن جب میں اپنے اصل گھر لوٹ جاؤں گا، دو گز زمین کے نیچے سفید کفن میں لپٹا دنیا کی ساری تھکن اور دکھ یہیں چھوڑ کر۔ تب شاید کچھ لوگ سکون سے سو جائیں گے، اور کچھ کی آنکھوں سے نیند ہمیشہ کے لیے چھن جائے گ

About