@pml.n.official1: کابینہ کے جائزے کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں انتہائی تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ 2021 سے 2024 کے تین سالوں میں کل 2911 واقعات ہوئے، جبکہ صرف پچھلے ایک سال کے دوران ریکارڈ شدہ واقعات کی تعداد بڑھ کر 3787 تک جا پہنچی ہے، جو پچھلے تین سالوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ افواجِ پاکستان، پولیس، سیکیورٹی فورسز، علماء اور معصوم شہریوں کی شہادتوں اور اس سنگین صورتحال کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ صوبے کے سربراہ کی حیثیت سے زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے، یتیم بچوں اور بیواؤں کے سر پر ہاتھ رکھنے اور عوام کو تسلی دینے کے بجائے ذاتی سیاست کو پروان چڑھانے اور ملکی دوروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔