@roohsukhan1: کاش وقت کو مٹھی میں قید کیا جا سکتا تو میں پھر لوٹ جاتا اُس لمحے کی دہلیز پر جہاں تم میری دھڑکنوں کے قریب اور میں تمہاری باتوں میں زندہ ہوا کرتا تھا۔ اب نہ وہ شامیں ہیں، نہ وہ باتیں، نہ تم، بس یادوں کا ایک شہر ہے جو ہر رات میری آنکھوں میں اتر آتا ہے، اور خاموشی سے دل کے دروازے پر تمہارا نام لکھ جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں، وقت گزر جاتا ہے، مگر اُن سے کوئی یہ پوچھے— جن سے اُن کا اپنا وقت چھین لیا جائے، وہ کس گھڑی میں جئیں، کس لمحے میں خود کو ڈھونڈیں؟ کاش کوئی مجھے بھی بتاتا کہ بچھڑ جانے کے بعد کیسے جیا جاتا ہے، کیسے اُن راستوں سے گزرا جاتا ہے جہاں کبھی کسی کا ہاتھ تھام کر چلے ہوں، کیسے اُن شاموں کو بھلایا جاتا ہے جن میں کسی کی آواز سکون ہوا کرتی تھی۔