@anonymous.exe404: ہم کبھی کبھی اپنے اندر اٹھتے ہوئے طوفانوں کو اس قدر خاموشی سے سینے میں دبا لیتے ہیں کہ دنیا کے لیے ہم ایک پرسکون جھیل کی مانند ہوتے ہیں۔ ہم اپنی مسکراہٹوں کو ڈھال بنا کر ان دردناک آہوں کو چھپا لیتے ہیں جن کا کوئی لفظ ترجمہ نہیں کر سکتا۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں، بلکہ اس بات کا خاموش اعتراف ہے کہ ہم اپنے بوجھ کو اٹھانے کے لیے کتنی محنت کرتے ہیں۔ پھر ہم پر یہ راز کھلتا ہے کہ اصل خوبصورتی اور سکون ان طوفانوں کو ختم کرنے میں نہیں، بلکہ ان کے درمیان رہتے ہوئے بھی اپنے رب کی رحمت کو پکارنے میں ہے۔ جب ہر سہارا ٹوٹ جاتا ہے، تو بس وہی ایک ذات ہوتی ہے جو ہمارے دلوں کے ہر زخم کو دیکھتی ہے اور ہماری بے چینی کو اطمینان میں بدل دیتی ہے۔ اس کی رحمت ہی ہمارے ہر طوفان کو پرسکون بنا دیتی ہے۔ اس سمجھ کے بعد، دل سے ہر طرح کا خوف نکل جاتا ہے اور ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ ہم اس بات پر شکر کرتے ہیں کہ ہمارے اندر کے سارے طوفان صرف اس کے سامنے عیاں ہیں۔ اس کی رحمت ہی وہ سہارا ہے جو ہمیں ہر حال میں زندہ رکھتا ہے۔ اس کے سامنے جھک جانے میں ہی سارا سکون ہے۔