حضرت عمر کا فیصلہ بالکل قرآن کے مطابق ہے اور دوسرا یہ کہ حرام حلال کا کام اللہ کا ہے نہ رسول کا ہے نہ صحابی کا ۔ کہا لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین طلاق ایک ہوتی ہے
2026-10-16 05:24:48
3
Ajmal khan kanjoo :
bilkul haq
2026-10-15 10:17:26
2
humaira :
ek mehfil mai y ya teen sai ziada bolne sai bhi ek shumaar hoi tau abtak in molviyo ne kitni talaqain karwadi hain phir???
2026-10-15 08:27:04
2
Arif Xazir :
Quran me Kia lakha h
2026-10-15 10:55:56
1
UmaR Zaman :
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت بھی پڑھو
2026-10-15 11:45:40
4
papa ki pari :
قرآن مجید میں انسان کو دو مواقع دیے ہیں اللہ تعالیٰ کو پتا ہے کہ انسان غلطی کا پتلا ہے وہ غلطی کرے گا اسی لیے اللہ نے 2 مرتبہ رجوع کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، تین طلاق کا مطلب تین مواقع جب ایک موقع اپنا پورا مرحلہ طے کر کے ختم ہوگا، تو آپ کے پاس دوسرا موقع ابھی موجود ہوگا، لیکن اگر دو مرتبہ رجوع کرنے کے بعد تیسری مرتبہ بھی طلاق دے دی تو اب کوئی رجوع کا موقع موجود نہیں ہے، یہی بات قرآن میں اللہ پاک نے بیان فرمایا ہے
2026-10-17 12:18:00
4
عقیل البلوشی :
2026-10-17 17:00:22
0
🅰️bubakar🇵🇰 :
شیخ صاحب حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ کے دور میں طلاق کا کیا اصول رائج تھا ؟
2026-10-14 14:47:31
4
Zubi Malik :
جی، سورۃ البقرہ کی آیت نمبر *229 اور 230* کا ترجمہ یہ ہے - یہ طلاق کے بارے میں ہے:
*آیت 229:*
> طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے، پھر اس کے بعد یا تو اچھے طریقے سے روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے، اور تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم نے جو کچھ انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس لو، سوائے اس کے کہ دونوں کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے، تو اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ عورت (خلع کے طور پر) کچھ دے کر اپنی جان چھڑا لے، یہ اللہ کی حدیں ہیں سو ان سے آگے نہ بڑھو، اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی ظالم ہیں۔
*آیت 230:*
> پھر اگر اسے (تیسری بار) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کر لے، پھر اگر وہ دوسرا شوہر بھی اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ دوبارہ آپس میں لوٹ آئیں، اگر انہیں خیال ہو کہ وہ اللہ کی حدیں قائم رکھ سکیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں وہ ان لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے جو علم رکھتے ہیں۔
2026-10-15 20:09:58
1
rabi :
yahi to ma kehna chthi huj
2026-10-15 07:57:17
2
saleem :
یہ بتاؤں ایک مجلس کے 3 طلاق کو 1 مانتے ھو
تو 3 الگ الگ مجلس 3+3+3 کو کتنے طلاق مانتے ھو
2026-10-15 14:28:18
1
Ahson Khan :
حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی 3 طلاق رائج تھیں ۔
2026-10-17 13:33:42
1
Chaudhry Masood321 :
[Sticker] ماشا اللہ
2026-10-15 15:05:49
1
M Rauf Gujjar Fsd :
pehlay Wala durast hy
2026-10-15 11:35:53
1
009660502562041 :
tamam ulmma main ikhtalaf way ?
2026-10-15 08:08:03
1
ابو ابراهيم امير حمزه :
2026-10-15 18:41:54
1
Shawa Property Dealer :
حضرت عباس کا دوسرا روایت بھی پیش کرو قرآن کیا کہہ رہا ہے سب سامنے لاو
2026-10-16 05:21:20
1
humaira :
har firqa apnj baat karta hai
2026-10-15 08:28:00
1
Farrukh :
2:229 الطّلاَقُمَرّتَانِ. طلاق (صرف) دو بار (تک) ہے
الطّلاَقُمَرّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْتَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلاَيَحِلّلَكُمْأَن تَأْخُذُواْمِمّا آتَيْتُمُوهُنّشَيْئًا إِلاّأَن يَخَافَا أَلاّيُقِيمَا حُدُودَاللّهِ فَإِنْخِفْتُمْأَلاّيُقِيمَا حُدُودَاللّهِ فَلاَجُنَاحَعَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْبِهِ تِلْكَحُدُودُاللّهِ فَلاَتَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدّحُدُودَاللّهِ فَأُوْلَـئِكَهُمُالظّالِمُونَ. Tahir ul Qadri
طلاق (صرف) دو بار (تک) ہے پھر یا تو (بیوی کو) اچھے طریقے سے (زوجیت میں) روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے، اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ جو چیزیں تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ (اب رشتۂ زوجیت برقرار رکھتے ہوئے) دونوں اﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، سو (اندریں صورت) ان پر کوئی گناہ نہیں کہ بیوی (خود) کچھ بدلہ دے کر (اس تکلیف دہ بندھن سے) آزادی لے لے، یہ اﷲ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں، پس تم ان سے آگے مت بڑھو اور جو لوگ اﷲ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں سو وہی لوگ ظالم ہیں
Yousuf Ali. A divorce is only permissible twice: after that, the parties should either hold Together on equitable terms, or separate with kindness. It is not lawful for you, (Men), to take back any of your gifts (from your wives), except when both parties fear that they would be unable to keep the limits ordained by Allah. If ye (judges) do indeed fear that they would be unable to keep the limits ordained by Allah, there is no blame on either of them if she give something for her freedom. These are the limits ordained by Allah; so do not transgress them if any do transgress the limits ordained by Allah, such persons wrong (Themselves as well as others).
2026-10-17 10:42:42
0
anabiakhan :
goood job
2026-10-16 18:22:41
0
عزیز :
حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں ایک عورت کو سالوں سال طلاق کی انتظارِ میں بیٹھا تے تھے جب دوسری عورت ملتی تب طلاق دی جاتی اگر نہیں ملتی تو دوبارہ قبول کر لیتی عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ حالت دیکھ لیا بہت پریشان ہوئی یہ تو عورت کی توھین ہے ۔
2026-10-24 07:33:35
0
Shaheen khan :
تم قران کا حوالہ کیوں نہیں دیتے
2026-10-20 12:50:44
0
Khan up 50 :
ek majlish me 3 talaq dene pe ek hi hoga phir puri zindagi talaq hi Nahi Hoga kiun ki Talaq ek se aage badh hi Nahi raha 😆😆😆😆😆😆😆😆😆
2026-10-24 23:23:00
0
عبداللہ عبداللہ :
استعفراللہ استعفراللہ
2026-10-23 17:00:27
0
Peer Saab1 :
2026-10-15 08:53:15
0
To see more videos from user @abdulbari.42, please go to the Tikwm
homepage.