@jaaneman264: #creatorsearchinsights #editwithtako

🌹 𝒇𝒍𝒐𝒘𝒆𝒓么𝒒𝒖𝒆𝒆𝒏👸🏻
🌹 𝒇𝒍𝒐𝒘𝒆𝒓么𝒒𝒖𝒆𝒆𝒏👸🏻
Open In TikTok:
Region: KW
Wednesday 14 October 2026 15:06:59 GMT
95737
3250
21
780

Music

Download

Comments

alexessu
Alex Essu :
ithu avungalukku teriyuma
2026-10-15 04:28:14
4
trananth999
Ananthan999 TRP MANY :
👌 என்ன கண்டு பிடிப்பு
2026-10-17 09:34:54
0
jeevaarokiasamy
jeevaarokiasamy :
Paa ithu namma list leyeh illayeh😂
2026-10-15 01:10:39
2
esanmagal786ammu
மன்னித்துவிடு >மறக்காதே 🤫 :
ஓஹோ 👍👍👍👍👍👍
2026-10-16 05:06:06
0
user56742657373718
அன்பு :
A வ பத்தா கன்சிடர் பண்ணுனா, 10 என்னவா கன்சிடர் பண்றது ?
2026-10-15 21:09:47
0
suntharashegarram
suntharashegar :
அற்புதம்
2026-10-15 12:27:18
0
sggopi2008
Gopi Kannan :
2026-10-15 03:01:40
0
_sanjay_75
☆Sαиjαy☆ :
Nambe melle kille mattum thaa teriyum joo
2026-10-15 00:00:36
2
gopiveera4
gopiveera :
athulam teriyathu pa enggalukku therinjathu ellam mela or keela😁😁😁
2026-10-15 07:14:47
0
abiboyabiboy1
𝓐𝓫𝓲𝓫𝓸𝔂𝓐𝓫𝓲𝓫𝓸𝔂 :
🤣🤣🤣
2026-10-14 18:12:36
1
iqbalkhaja1
Iqbal Khaja :
🥰🥰🥰
2026-10-14 17:11:20
0
rakeeshrkr
rakeeshRKR :
😂😂😂
2026-10-15 08:22:34
0
user7124049800093
elangeshan :
👍
2026-10-15 06:40:30
0
sabeeth01
Sabeeth🇦🇪 :
😳😳😳
2026-10-14 19:14:59
0
user4003592190487
அகவன் :
👍
2026-10-14 23:38:18
0
redross263
redross26 :
🥰🥰🥰👍👍👍👍👍
2026-10-14 17:57:31
0
vinoth_62
VINOTH :
👍👍👍👌👌
2026-10-14 17:48:06
0
user68359934838165
aron S@T}{€€$♧ סאטיש 🇱🇰🇮🇱 :
👍👍
2026-10-16 01:05:37
0
thayathayafrancis
JFT Thaya Theesh :
👌👌👌
2026-10-17 11:18:38
0
To see more videos from user @jaaneman264, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#کل ٹرمپ کے استقبال میں عورتیں پیش کی جا رہی تھیں، آج ایک عورت کا سر تن سے جدا ہے! ایک وقت تھا جب سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر شاہانہ استقبال کیا جا رہا تھا۔ دولت کی نمائش تھی، قیمتی تحفے تھے، رقص و موسیقی کی محفلیں تھیں، اور دنیا بھر کے سامنے عرب شاہی نظام کی شان و شوکت دکھائی جا رہی تھی۔ آج اسی خطے سے ایک ایسی خبر سامنے آتی ہے جو انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ ایک عورت، جو کسی کی بیوی تھی، کسی کی بیٹی تھی، کسی کے گھر کی عزت اور کسی کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی زندگی ایک ایسے انجام تک پہنچی کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دیا گیا۔ کیا عورت صرف استقبال کی زینت بننے کے لیے ہے؟ کیا اس کی عزت صرف محفلوں تک محدود ہے؟ اور جب وہ ایک انسان کی حیثیت سے اپنے ہی گھر میں ظلم کا شکار ہو، تو اس کی حرمت کہاں چلی جاتی ہے؟ کل تک طاقتور حکمرانوں کے سامنے مسکراہٹیں بکھیرنے، دولت لٹانے اور دنیا کو متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ آج ایک عورت کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محلوں کی چمک دمک، دولت کے انبار اور طاقت کے مظاہرے کسی معاشرے کی اصل عظمت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ اصل عظمت تو یہ ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں محفوظ ہو، ایک بیوی اپنے شوہر کے ہاتھوں خوف زدہ نہ ہو، ایک بیٹی اپنی زندگی کے لیے دعا کرنے پر مجبور نہ ہو، اور ایک انسان کی جان کو ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر اختلاف سے بڑھ کر اہمیت دی جائے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم عورت کو کبھی عزت کے نام پر قید کرتے ہیں، کبھی غیرت کے نام پر اس کی زندگی چھین لیتے ہیں، اور کبھی اسے طاقتور لوگوں کی محفلوں میں محض ایک منظر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ آخر عورت کی اپنی ذات، اس کے خواب، اس کی خواہشات اور اس کی زندگی کی قیمت کب تسلیم کی جائے گی؟ اسلام تو عورت کو عزت، وراثت، تحفظ اور زندگی کا حق دیتا ہے۔ پھر عورت پر ظلم کرنے والا کس منہ سے دین، غیرت اور عزت کی بات کرتا ہے؟ کسی عورت کو قتل کر دینا غیرت نہیں، بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو برسوں تک رستا رہتا ہے۔ اور حکمرانوں سے بھی ایک سوال ہے: اگر دولت سے دنیا کو حیران کیا جا سکتا ہے، تو کیا انصاف سے دل نہیں جیتے جا سکتے؟ اگر عالمی رہنماؤں کے استقبال پر بے شمار وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو معاشرے کی ہر عورت کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے پوری قوت کیوں نہیں صرف کی جاتی؟ یاد رکھیے، کسی ملک کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کی عورتوں کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ آج ایک عورت کی موت پر صرف اس کے گھر والے نہیں رو رہے؛ ہر وہ شخص غم زدہ ہے جس کے دل میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس عورت کی زندگی واپس نہیں آ سکتی، مگر اس کا المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر سکتا ہے کہ ہم کیسا معاشرہ بنا رہے ہیں، جہاں عورت کی عزت کے دعوے تو بہت ہیں، مگر اس کی جان کی حفاظت سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ اللہ ہر مظلوم عورت کو انصاف عطا فرمائے، ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے، اور ہمیں ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں کسی عورت کا جنازہ اس کی بے بسی کی کہانی نہ بنے۔ کیونکہ عورت کوئی تماشا نہیں، کوئی ملکیت نہیں، کوئی بے جان شے نہیں؛ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بادشاہ، کسی حکمران یا کسی طاقتور انسان کی۔
#کل ٹرمپ کے استقبال میں عورتیں پیش کی جا رہی تھیں، آج ایک عورت کا سر تن سے جدا ہے! ایک وقت تھا جب سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر شاہانہ استقبال کیا جا رہا تھا۔ دولت کی نمائش تھی، قیمتی تحفے تھے، رقص و موسیقی کی محفلیں تھیں، اور دنیا بھر کے سامنے عرب شاہی نظام کی شان و شوکت دکھائی جا رہی تھی۔ آج اسی خطے سے ایک ایسی خبر سامنے آتی ہے جو انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ ایک عورت، جو کسی کی بیوی تھی، کسی کی بیٹی تھی، کسی کے گھر کی عزت اور کسی کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی زندگی ایک ایسے انجام تک پہنچی کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دیا گیا۔ کیا عورت صرف استقبال کی زینت بننے کے لیے ہے؟ کیا اس کی عزت صرف محفلوں تک محدود ہے؟ اور جب وہ ایک انسان کی حیثیت سے اپنے ہی گھر میں ظلم کا شکار ہو، تو اس کی حرمت کہاں چلی جاتی ہے؟ کل تک طاقتور حکمرانوں کے سامنے مسکراہٹیں بکھیرنے، دولت لٹانے اور دنیا کو متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ آج ایک عورت کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محلوں کی چمک دمک، دولت کے انبار اور طاقت کے مظاہرے کسی معاشرے کی اصل عظمت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ اصل عظمت تو یہ ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں محفوظ ہو، ایک بیوی اپنے شوہر کے ہاتھوں خوف زدہ نہ ہو، ایک بیٹی اپنی زندگی کے لیے دعا کرنے پر مجبور نہ ہو، اور ایک انسان کی جان کو ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر اختلاف سے بڑھ کر اہمیت دی جائے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم عورت کو کبھی عزت کے نام پر قید کرتے ہیں، کبھی غیرت کے نام پر اس کی زندگی چھین لیتے ہیں، اور کبھی اسے طاقتور لوگوں کی محفلوں میں محض ایک منظر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ آخر عورت کی اپنی ذات، اس کے خواب، اس کی خواہشات اور اس کی زندگی کی قیمت کب تسلیم کی جائے گی؟ اسلام تو عورت کو عزت، وراثت، تحفظ اور زندگی کا حق دیتا ہے۔ پھر عورت پر ظلم کرنے والا کس منہ سے دین، غیرت اور عزت کی بات کرتا ہے؟ کسی عورت کو قتل کر دینا غیرت نہیں، بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو برسوں تک رستا رہتا ہے۔ اور حکمرانوں سے بھی ایک سوال ہے: اگر دولت سے دنیا کو حیران کیا جا سکتا ہے، تو کیا انصاف سے دل نہیں جیتے جا سکتے؟ اگر عالمی رہنماؤں کے استقبال پر بے شمار وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو معاشرے کی ہر عورت کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے پوری قوت کیوں نہیں صرف کی جاتی؟ یاد رکھیے، کسی ملک کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کی عورتوں کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ آج ایک عورت کی موت پر صرف اس کے گھر والے نہیں رو رہے؛ ہر وہ شخص غم زدہ ہے جس کے دل میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس عورت کی زندگی واپس نہیں آ سکتی، مگر اس کا المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر سکتا ہے کہ ہم کیسا معاشرہ بنا رہے ہیں، جہاں عورت کی عزت کے دعوے تو بہت ہیں، مگر اس کی جان کی حفاظت سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ اللہ ہر مظلوم عورت کو انصاف عطا فرمائے، ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے، اور ہمیں ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں کسی عورت کا جنازہ اس کی بے بسی کی کہانی نہ بنے۔ کیونکہ عورت کوئی تماشا نہیں، کوئی ملکیت نہیں، کوئی بے جان شے نہیں؛ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بادشاہ، کسی حکمران یا کسی طاقتور انسان کی۔

About