@ishaqwala11: ایک بے چین شخص ویران راستوں پر سر جھکائے چلا جا رہا تھا، جس کی آنکھوں میں کسی اپنے کی دھندلی یادیں آباد تھیں۔ جب بھی شام ڈھلتی اور تنہائی کا بوجھ بڑھنے لگتا، تو اس کا دل کسی گہرے زخم کی طرح کسکنے لگتا۔ اس خلش اور تڑپ سے چھٹکارا پانے کے لیے اس نے ہر آستانے کا چکر کاٹا اور گلے میں طرح طرح کے تعویذ پہن لیے تاکہ شاید سینے کی یہ بے قراری تھم جائے۔ مگر دھاگوں اور منکوں میں لپٹا کوئی بھی تعویذ اس کے دل کو سکون نہ دے سکا۔ وہ تعویذوں کی لڑیاں گلے میں سجائے پھرتا رہا، مگر افسوس کہ روح میں سمایا ہوا وہ درد کسی بھی تدبیر سے کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔