@allah_hu_rabi..1: اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ جب معاشرے میں سچ بولنے والوں کو ان کی بات کے بجائے ان کے انداز کی وجہ سے رد کیا جانے لگے، تو یہ رویّوں پر غور کرنے کی دعوت ہے۔ بعض اوقات لوگ اپنے مفاد کے خلاف سچ سننا پسند نہیں کرتے، لیکن اسلام ہمیں حق قبول کرنے اور انصاف پر قائم رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جانتے بوجھتے حق کو نہ چھپاؤ۔“ (البقرہ 2:42) تاہم، سچ بولنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان سخت لہجے یا بد اخلاقی کو درست سمجھے؛ اسلام حق گوئی کے ساتھ حکمت اور نرمی بھی سکھاتا ہے۔ اسی طرح کسی کی بات کو صرف اس کے تلخ انداز کی وجہ سے رد کرنا بھی درست نہیں، بلکہ بات کو دلیل اور انصاف کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے۔ جس معاشرے میں سچ سے زیادہ خوشامد کو پسند کیا جائے، وہاں منافقت کو فروغ ملنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؛ اس لیے سچ کو قبول کرنے کا حوصلہ اور سچ کہنے کا اچھا اخلاق، دونوں ضروری ہیں۔ 🤍#Muslim #Islamic #Quran #Dua #IslamicReminder