تم پھولوں کے شیدائی، میں اپنے یار کا دیوانہ
تمہیں گلشن مبارک ہو، مجھے بس دل کا کاشانہ
تمہیں مخمور کرتی ہے مئے انگور کی خوشبو
میری نظروں کو بھاتا ہے بس ان کی آنکھ کا میخانہ
زمانہ ڈھونڈتا ہے روشنی شمعوں کی محفل میں
ہمیں روشن بناتا ہے کسی کی یاد کا آنا
طوافِ کوچۂ جاناں سے بڑھ کر کچھ نہیں لگتا