be shuk Mai b books parhti Quran b Ustan g bilkul Sach bayan krty h Alhumduliah
2026-10-15 09:44:17
3
qibla :
muhamad
2026-10-15 11:34:06
3
ᴠͥɪͣᴘͫ 𝙊𝙉𝙇𝙔 𝙈𝙐𝙎𝙇𝙄𝙈 :
2026-10-15 10:46:59
2
A🫶❤️z ❤️jan :
2026-10-15 06:20:08
4
Azan اقبال❤️🩹 :
2026-10-15 15:52:55
0
Arshad Khan :
2026-10-15 13:21:43
1
アリskp :
2026-10-15 18:12:57
0
صلى الله عليه وآله وسلم :
2026-10-15 16:25:46
0
Arshad Khan :
2026-10-15 13:21:36
0
user15058198973 :
انسان کی تقدیر، اختیار اور اللہ کے فیصلے
انسان کی زندگی اور اس کے اختیارات کے بارے میں ہمیشہ
سوال رہا ہے کہ جب وہ دنیا میں آتا ہے تو کیا اس کے تمام فیصلے اللہ نے پہلے سے طے کر دیے ہیں، یا اسے اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جنت یا جہنم کا راستہ خود چنے۔ قرآن، رسول اکرم ﷺ اور اہل بیت علیہم السلام کے اقوال اس مسئلے کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
قرآن مجید صاف کہتا ہے کہ اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور ہر انسان کے لئے نیکی اور بدی دونوں راستے کھول دیے گئے ہیں۔ سورۃ الدہر میں ارشاد ہے: "ہم نے انسان کو راستہ دکھا دیا، اب چاہے شکر گزار بنے یا ناشکرا۔" سورۃ النساء میں ہے کہ جو شخص نیک عمل کرے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو برا کرے گا بدلہ پائے گا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جنت یا جہنم کا فیصلہ پہلے سے زبردستی نہیں لکھ دیا گیا بلکہ انسان کے اعمال ہی اس کا انجام طے کرتے ہیں۔
رسول اکرم ﷺ نے بھی بارہا اس بات کو بیان فرمایا کہ عمل ضروری ہے۔ ایک حدیث میں فرمایا: "عمل کرو! ہر انسان کے لئے وہی راستہ آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لئے وہ خود کو تیار کرتا ہے۔" صحابہ کے سوال پر کہ کیا سب کچھ پہلے لکھ دیا گیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں لکھا گیا ہے، مگر اللہ ہر ایک کے لئے اسی راہ کو ہموار کر دیتا ہے جسے وہ خود اختیار کرتا ہے۔ گویا انسان کو کوشش اور انتخاب کا حق دیا گیا ہے۔
اہل بیتؑ نے اس مسئلے کو نہایت گہرائی سے واضح کیا ہے۔ امام علیؑ سے جب پوچھا گیا کہ کیا انسان مجبور ہے یا آزاد، تو آپؑ نے فرمایا: "نہ جبر ہے نہ مکمل آزادی بلکہ دونوں کے درمیان راستہ ہے۔" یہ وہی معروف اصول ہے جسے شیعہ مکتب فکر میں "امر بین الامرین" کہا جاتا ہے۔ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا کہ اللہ نے بندے کو حکم دیا، نافرمانی سے منع کیا، اچھے عمل پر ثواب رکھا اور برے پر عذاب۔ اگر انسان مجبور ہوتا تو جزا و سزا بے معنی ہو جاتی۔ امام موسیٰ کاظمؑ نے لوگوں کی اس سوچ کو رد کیا کہ سب کچھ پہلے سے طے ہے اور انسان کا کوئی کردار نہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ اللہ نے راستے بتا دیے ہیں اور انسان کے عمل ہی سے ہدایت یا گمراہی وابستہ ہے۔ امام رضاؑ نے واضح فرمایا کہ جو کہتا ہے انسان مجبور ہے وہ اللہ پر ظلم کا الزام لگاتا ہے اور جو کہتا ہے انسان بالکل آزاد ہے وہ اللہ کی قدرت کا منکر ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے حدود اور قوانین مقرر کر دیے ہیں اور انسان کو ان کے درمیان اختیار دیا ہے۔ امام مہدیؑ سے مروی توقیع میں ہے کہ اللہ نے انسان کو نیک یا بد عمل کرنے کا اختیار دیا ہے لیکن انجام میں اللہ کی مشیت غالب ہے۔
اس طرح