@ouad.ez: Facial ratings with @PSL App #fyp

Ouad
Ouad
Open In TikTok:
Region: NL
Wednesday 14 October 2026 21:36:36 GMT
500
7
1
0

Music

Download

Comments

amoremio.o
❦ :
second is better
2026-10-14 22:28:19
0
To see more videos from user @ouad.ez, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

محبت اور عشق میں شاید یہی سب سے بڑا فرق ہے کہ محبت میں انسان کو پھر بھی اپنا ہوش رہتا ہے، وہ اپنے لیے بھی سوچتا ہے، اپنی خوشی اور اپنی ضرورتوں کو بھی دعاؤں میں جگہ دیتا ہے، مگر عشق جب عروج پر پہنچ جائے تو انسان خود سے ہی بےخبر ہو جاتا ہے۔ اسے ہر طرف، ہر لمحہ، ہر خیال میں بس اپنا محبوب ہی نظر آتا ہے۔ پھر وہ سجدے میں جاتا ہے تو اپنی بخشش، اپنے سکون اور اپنی ضرورتوں سے پہلے اسی ایک شخص کو مانگتا ہے جس میں اسے اپنی پوری دنیا دکھائی دیتی ہے۔ ہاتھ دعا کے لیے اٹھتے ہیں تو آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں اور زبان پر بس یہی التجا ہوتی ہے کہ یا اللہ، مجھے وہ شخص عطا کر دے، جس کے بغیر میرا دل کہیں نہیں لگتا۔ عشق میں انسان اپنی ذات کے لیے بہت کم مانگتا ہے، اسے اپنے گناہوں سے زیادہ اپنے محبوب کی جدائی کا خوف ستاتا ہے۔ شاید عشق کی دیوانگی یہی ہے کہ انسان نماز جیسی پاک جگہ پر بھی اپنے محبوب کو مانگتے ہوئے رو پڑے اور اللہ کے سامنے اپنے دل کا وہ درد رکھ دے جسے دنیا کے سامنے بیان کرنا بھی ممکن نہ ہو۔ وہ کہتا ہے کہ یا اللہ، اگر وہ میرے نصیب میں نہیں تو میرے اس بےقرار دل کا کیا ہوگا؟ کیونکہ جب عشق سچا ہو جائے تو محبوب کا ملنا صرف ایک خواہش نہیں رہتا، زندگی کی ضرورت بن جاتا ہے؛ اور اس کی جدائی میں کبھی کبھی یہ پوری دنیا بھی ایسی لگتی ہے جیسے قیامت گزر رہی ہو، اور آخرت بھی اس وقت تک ادھوری محسوس ہوتی ہے جب تک دعا میں مانگا ہوا وہ ایک شخص نصیب نہ ہو جائے
محبت اور عشق میں شاید یہی سب سے بڑا فرق ہے کہ محبت میں انسان کو پھر بھی اپنا ہوش رہتا ہے، وہ اپنے لیے بھی سوچتا ہے، اپنی خوشی اور اپنی ضرورتوں کو بھی دعاؤں میں جگہ دیتا ہے، مگر عشق جب عروج پر پہنچ جائے تو انسان خود سے ہی بےخبر ہو جاتا ہے۔ اسے ہر طرف، ہر لمحہ، ہر خیال میں بس اپنا محبوب ہی نظر آتا ہے۔ پھر وہ سجدے میں جاتا ہے تو اپنی بخشش، اپنے سکون اور اپنی ضرورتوں سے پہلے اسی ایک شخص کو مانگتا ہے جس میں اسے اپنی پوری دنیا دکھائی دیتی ہے۔ ہاتھ دعا کے لیے اٹھتے ہیں تو آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں اور زبان پر بس یہی التجا ہوتی ہے کہ یا اللہ، مجھے وہ شخص عطا کر دے، جس کے بغیر میرا دل کہیں نہیں لگتا۔ عشق میں انسان اپنی ذات کے لیے بہت کم مانگتا ہے، اسے اپنے گناہوں سے زیادہ اپنے محبوب کی جدائی کا خوف ستاتا ہے۔ شاید عشق کی دیوانگی یہی ہے کہ انسان نماز جیسی پاک جگہ پر بھی اپنے محبوب کو مانگتے ہوئے رو پڑے اور اللہ کے سامنے اپنے دل کا وہ درد رکھ دے جسے دنیا کے سامنے بیان کرنا بھی ممکن نہ ہو۔ وہ کہتا ہے کہ یا اللہ، اگر وہ میرے نصیب میں نہیں تو میرے اس بےقرار دل کا کیا ہوگا؟ کیونکہ جب عشق سچا ہو جائے تو محبوب کا ملنا صرف ایک خواہش نہیں رہتا، زندگی کی ضرورت بن جاتا ہے؛ اور اس کی جدائی میں کبھی کبھی یہ پوری دنیا بھی ایسی لگتی ہے جیسے قیامت گزر رہی ہو، اور آخرت بھی اس وقت تک ادھوری محسوس ہوتی ہے جب تک دعا میں مانگا ہوا وہ ایک شخص نصیب نہ ہو جائے

About