کسی نے کہا مجھے انجانے بن کر ایا کرو میرے دل کے عینوں میں مہمان بن کر ایا کرو پاگل ایک مجھے ہی تو بخشی ہے دل کی حکومت نے یہ تیری سلطنت ہے سلطانی سلطانی بن کے ایا کرو تو میں اپنے پیارے یار کا وہ سلطانی ہوں اور اپ کی حکمرانی کا ایک محبت کا اور پیار کا پیاس لے کر ایا ہوں اور اپنی پیاریاں کو پیار سے لینے ہیں اور اپنی پیاری پلکوں کا اور اپنی پیاری سیرت اور صورت کا اور اپنی پھولوں جیسی دلیل کا سلطانی بن کر ایا ہوں اپ بھی سنگتنت میں اور مہمان بن کر لایا ہوں اور اپ بھی سلطنت میں میں بہت ہی محبت اور پیار ہے اور سیرت بھی اور صورت بھی اور چاہت بھی اور انکھیں بھی پیاری پیاری اپ کی سلطنت میں ہے اپ کی دل کی دھڑکن بھی اس سلطنت کی بہت پیاری ہے اور دل کی اواز بھی اپ کی سلطنت کی تیاری ہے اور اپ کے دل کی چاہت بھی اس سلطنت کی تیاری ہے وہ سلطانی بن کر ایا ہوں اور سلطانی بھی اس پیارے یار کا جس کی سلطنت میں سلطان بن کر وہ مہمان بن کر ایا ہوں اور اس کی مہمان نوازی بھی اس سلطنت میں مہمان بن کر ایا ہوں اس کی چاہت کی وہ سلطانی ایا ہے اس سلطنت کی اواز سن کر ایا ہے اس سمت اس سلطنت میں جو بادشاہی ہے وہ میرے پیارے یار کی جس کی بہت پیاری انکھیں ہیں جس کی بہت ہی پیاری کلی کی خوشبو ہے اس سلطنت کی مہمان بن کر ایا ہوں اور سلطنت کا محبت لے کر ایا ہوں وہ سلطنت کی ایک سیرت اور صورت کی مہمان بن کر وہ سلطانی ایا ہے وہ مہمان بن کر ایا ہے اور جو پردیسی یار ہے اس پردیسی یار کی بہت پیاری ہے اس سلطنت میں عشق بہت ہے اور عشق کی بات اور عشق کی کتاب سلطانی سات اٹھا کر لے کر ایا ہے اور مہمان بن کر ایا ہے اور اپ کی محبت کو سلام کرنے ایا ہے اور اپ کی چاہت کو سلام کرنے ایا ہے اور اپ کی پیاری انکھوں کو سلام کرنے ایا ہے اور اپ کی پلکوں کو سلام کرنے ایا ہے اور اپ کی سیرت اور صورت کو سلام کرنے ایا ہے اور پھولوں جیسی کلی اس کو سلام کرنے ایا ہے وہ سلطانی وہ ہے جس کا پیارا اللہ ہے پیارا یار حسین ہے وہ سنت کا سلطانی ایا ہے اور اس سلطنت میں ایا ہے یہ سلطنت میں محبت کا اور عشق کا بہار لے کر ایا ہے اور اس سنت میں عشق کی کتاب کھول کر پڑھ کر سلطنت کو محبت اور عشق کی بات سنانے ایا ہے اور عشق اور محبت اور یار اور دوستی کا سلطانی بن کر ایا ہے اس سلطانی کو وہ عشق کی کتاب کا کہیں پرسوں پہلے اس کتاب کا ذکر ہوا تھا اس سلطنت میں اور اس سلطنت میں ایک وہ بادشاہ ایا ہے قیصر و گلاب سلطانی بن کر اس کتاب کی عشق کی بات سنانے ایا ہے اور عشق کی بات عشق ہے اور عشق بھی میری جان ہے عشق میری جان کا دل ہے عشق میری جان کی چاہت ہے عشق میری جان کی ادا