@sweetwhisper9: اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ دنیا کی سب سے تکلیف دہ چیز کیا ہے، تو میں بے جھجھک کہوں گا: بے بسی۔۔۔! کیونکہ درد تو انسان رو کر بیان کر سکتا ہے، آنسو بہا کر دل کا بوجھ ہلکا کر سکتا ہے، مگر بے بسی وہ اذیت ہے جس میں انسان کے پاس رونے کی وجہ بھی ہوتی ہے، آنسو بھی ہوتے ہیں، دل میں طوفان بھی اٹھ رہا ہوتا ہے، لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ بے بسی تب شروع ہوتی ہے جب انسان چاہ کر بھی اپنے حالات نہیں بدل سکتا، کسی اپنے کو تکلیف میں دیکھ کر بھی اس کا درد نہیں بانٹ سکتا، دل چیخ چیخ کر کچھ کہنا چاہتا ہے مگر زبان خاموش رہنے پر مجبور ہوتی ہے، اور آنکھیں مدد مانگنا چاہتی ہیں مگر انسان اپنی ہی نظروں سے نظریں چرا لیتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ انسان صبر کر رہا ہے، مگر کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کس کرب سے گزر کر خاموش ہوا ہے۔ وہ راتوں کو جاگ کر خود کو سمجھاتا ہے، تنہائی میں اپنے آنسو پونچھتا ہے، ٹوٹے ہوئے دل کو خود ہی جوڑنے کی کوشش کرتا ہے، اور اگلی صبح ایسے اٹھتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر صبر سکون سے نہیں کیا جاتا، کچھ صبر انسان اپنی مجبوریوں کے ہاتھوں کرتا ہے۔ کچھ آنسو اس لیے نہیں رکتے کہ درد کم ہو گیا ہوتا ہے، بلکہ اس لیے رک جاتے ہیں کہ اب رونے سے بھی کچھ بدلنے کی امید باقی نہیں رہتی۔ اور بے بسی کی سب سے بڑی اذیت یہ ہے کہ انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں؛ مانگنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، مگر دینے والا کوئی نہیں؛ اور بدلنے کو پوری زندگی ہوتی ہے، مگر اختیار کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بے بسی انسان کو ایک ہی زندگی میں کئی بار توڑتی ہے؛ اور سب سے دردناک بات یہ ہے کہ ہر بار اسے اپنے بکھرے ہوئے وجود کو خود ہی سمیٹنا پڑتا ہے۔ کیونکہ جب انسان بے بس ہو جاتا ہے تو وہ صبر تو کر لیتا ہے، مسکرانا بھی سیکھ لیتا ہے، لوگوں کے سامنے خود کو سنبھال بھی لیتا ہے، مگر اس کے دل پر کیا گزرتی ہے، وہ صرف وہی جانتا ہے جس نے اپنی خواہشوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دم توڑتے دیکھا ہو، اور پھر بھی خاموشی سے یہ کہنا پڑا ہو: ”یا اللہ! میں راضی تو تیرے فیصلے پر ہوں، مگر تو ہی جانتا ہے کہ اس فیصلے کو قبول کرتے ہوئے میرے دل پر کیا گزر رہی ہے۔“ #fyppppppppppppppppppppppp #deepthoughts #virlvideo #dontunderreviewmyvideo #fypシ゚viral