@user18607077837733:

ابو جراح الفقيه
ابو جراح الفقيه
Open In TikTok:
Region: YE
Thursday 15 October 2026 07:30:18 GMT
387
10
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @user18607077837733, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جب ایک بند قمیص نے سچائی ظاہر کردی، اور ایک گواہی نے حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی ثابت کردی! مصر کا ایک شاہی محل تھا، جہاں حضرت یوسف علیہ السلام رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بے مثال حسن، پاکیزگی اور حکمت عطا فرمائی تھی۔ آپ علیہ السلام عزیزِ مصر کے گھر میں رہتے تھے، لیکن ایک دن اسی محل میں ایسا واقعہ پیش آیا جسے قرآنِ مجید نے ہمیشہ کے لیے محفوظ فرما دیا۔ ایک دن عزیزِ مصر کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔ اس نے دروازے بند کردیے اور انہیں اپنی خواہش کی طرف بلایا۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے فوراً اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی اور فرمایا: مَعَاذَ اللّٰهِ یعنی: اللہ کی پناہ! آپ علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی سے انکار کردیا اور واضح کردیا کہ وہ گناہ کا راستہ اختیار نہیں کرسکتے۔ جب عورت نے اپنی کوشش جاری رکھی تو حضرت یوسف علیہ السلام وہاں سے نکلنے کے لیے دروازے کی طرف دوڑے۔ عورت بھی ان کے پیچھے بھاگی اور اس نے پیچھے سے آپ علیہ السلام کی قمیص پکڑ لی، جس سے قمیص پیچھے کی طرف سے پھٹ گئی۔ اسی وقت دروازے پر اچانک عزیزِ مصر موجود تھا۔ اب عورت نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے حضرت یوسف علیہ السلام پر الزام لگا دیا۔ اس نے کہا کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے، اس کی سزا قید یا دردناک عذاب کے سوا کیا ہوسکتی ہے؟ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی بے گناہی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی عورت نے انہیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب معاملہ یہ تھا کہ سچ کون بول رہا تھا اور جھوٹ کون؟ 🌙 جب ایک گواہی نے حقیقت ظاہر کردی اسی موقع پر قرآنِ مجید کے بیان کے مطابق، عورت کے خاندان میں سے ایک بچے نےگواہی دی کہ اگر حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص سامنے سے پھٹی ہوئی ہے تو عورت سچی ہے، لیکن اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو عورت جھوٹی ہے اور حضرت یوسف علیہ السلام سچے ہیں۔ بعض تفسیری روایات میں اس گواہ کو شیرخوار بچہ بتایا گیا ہے، جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے گواہی دی تھی۔ اس گواہی کے مطابق فیصلہ قمیص کی حالت دیکھ کر ہونا تھا۔ جب عزیزِ مصر نے قمیص کو پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو حقیقت اس کے سامنے آگئی۔ اسے معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام دروازے کی طرف بھاگ رہے تھے اور عورت نے پیچھے سے ان کی قمیص پکڑی تھی۔ یوں حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی ظاہر ہوگئی اور عورت کا الزام غلط ثابت ہوا۔ عزیزِ مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا کہ اس معاملے کو جانے دیں، پھر اپنی بیوی سے کہا کہ وہ اپنے گناہ کی معافی مانگے۔ 💔 لیکن یہ واقعہ یہیں ختم نہیں ہوا جب شہر کی عورتوں کو اس واقعے کا علم ہوا تو وہ عزیزِ مصر کی بیوی کے بارے میں باتیں کرنے لگیں۔ اس عورت نے انہیں اپنے گھر بلایا اور ان کے لیے ضیافت تیار کی۔ اس نے ہر عورت کو ایک چھری دی، پھر حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے سامنے آنے کے لیے کہا۔ جب ان عورتوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو آپ کے حسن سے اس قدر حیران ہوئیں کہ اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور کہنے لگیں کہ اللہ کی پناہ! یہ انسان نہیں، کوئی معزز فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ تب عزیزِ مصر کی بیوی نے کہا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں۔ میں نے اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے اپنے آپ کو محفوظ رکھا۔ اس نے دھمکی دی کہ اگر حضرت یوسف علیہ السلام نے اس کی بات نہ مانی تو انہیں قید کردیا جائے گا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے رب! جس کام کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں، اس کے مقابلے میں قید مجھے زیادہ پسند ہے۔ اگر تو ان کی چالوں کو مجھ سے دور نہ کرے تو میں ان کی طرف مائل ہوسکتا ہوں اور نادانوں میں شامل ہوجاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور ان عورتوں کی چالوں کو آپ سے دور کردیا۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں نے کچھ عرصے کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام کو قید میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔ ✨ اس واقعے سے ملنے والا سبق حضرت یوسف علیہ السلام نے گناہ کے مقابلے میں قید کو ترجیح دی، کیونکہ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا دنیا کی ہر آسائش سے زیادہ قیمتی تھی۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کو تنہائی میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ دنیا کی خواہشات کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھنے والا انسان حق اور سچائی کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔ حوالہ: سورۂ یوسف، آیات 23 تا 35۔
جب ایک بند قمیص نے سچائی ظاہر کردی، اور ایک گواہی نے حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی ثابت کردی! مصر کا ایک شاہی محل تھا، جہاں حضرت یوسف علیہ السلام رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بے مثال حسن، پاکیزگی اور حکمت عطا فرمائی تھی۔ آپ علیہ السلام عزیزِ مصر کے گھر میں رہتے تھے، لیکن ایک دن اسی محل میں ایسا واقعہ پیش آیا جسے قرآنِ مجید نے ہمیشہ کے لیے محفوظ فرما دیا۔ ایک دن عزیزِ مصر کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔ اس نے دروازے بند کردیے اور انہیں اپنی خواہش کی طرف بلایا۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے فوراً اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی اور فرمایا: مَعَاذَ اللّٰهِ یعنی: اللہ کی پناہ! آپ علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی سے انکار کردیا اور واضح کردیا کہ وہ گناہ کا راستہ اختیار نہیں کرسکتے۔ جب عورت نے اپنی کوشش جاری رکھی تو حضرت یوسف علیہ السلام وہاں سے نکلنے کے لیے دروازے کی طرف دوڑے۔ عورت بھی ان کے پیچھے بھاگی اور اس نے پیچھے سے آپ علیہ السلام کی قمیص پکڑ لی، جس سے قمیص پیچھے کی طرف سے پھٹ گئی۔ اسی وقت دروازے پر اچانک عزیزِ مصر موجود تھا۔ اب عورت نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے حضرت یوسف علیہ السلام پر الزام لگا دیا۔ اس نے کہا کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے، اس کی سزا قید یا دردناک عذاب کے سوا کیا ہوسکتی ہے؟ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی بے گناہی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی عورت نے انہیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب معاملہ یہ تھا کہ سچ کون بول رہا تھا اور جھوٹ کون؟ 🌙 جب ایک گواہی نے حقیقت ظاہر کردی اسی موقع پر قرآنِ مجید کے بیان کے مطابق، عورت کے خاندان میں سے ایک بچے نےگواہی دی کہ اگر حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص سامنے سے پھٹی ہوئی ہے تو عورت سچی ہے، لیکن اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو عورت جھوٹی ہے اور حضرت یوسف علیہ السلام سچے ہیں۔ بعض تفسیری روایات میں اس گواہ کو شیرخوار بچہ بتایا گیا ہے، جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے گواہی دی تھی۔ اس گواہی کے مطابق فیصلہ قمیص کی حالت دیکھ کر ہونا تھا۔ جب عزیزِ مصر نے قمیص کو پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو حقیقت اس کے سامنے آگئی۔ اسے معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام دروازے کی طرف بھاگ رہے تھے اور عورت نے پیچھے سے ان کی قمیص پکڑی تھی۔ یوں حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی ظاہر ہوگئی اور عورت کا الزام غلط ثابت ہوا۔ عزیزِ مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا کہ اس معاملے کو جانے دیں، پھر اپنی بیوی سے کہا کہ وہ اپنے گناہ کی معافی مانگے۔ 💔 لیکن یہ واقعہ یہیں ختم نہیں ہوا جب شہر کی عورتوں کو اس واقعے کا علم ہوا تو وہ عزیزِ مصر کی بیوی کے بارے میں باتیں کرنے لگیں۔ اس عورت نے انہیں اپنے گھر بلایا اور ان کے لیے ضیافت تیار کی۔ اس نے ہر عورت کو ایک چھری دی، پھر حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے سامنے آنے کے لیے کہا۔ جب ان عورتوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو آپ کے حسن سے اس قدر حیران ہوئیں کہ اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور کہنے لگیں کہ اللہ کی پناہ! یہ انسان نہیں، کوئی معزز فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ تب عزیزِ مصر کی بیوی نے کہا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں۔ میں نے اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے اپنے آپ کو محفوظ رکھا۔ اس نے دھمکی دی کہ اگر حضرت یوسف علیہ السلام نے اس کی بات نہ مانی تو انہیں قید کردیا جائے گا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے رب! جس کام کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں، اس کے مقابلے میں قید مجھے زیادہ پسند ہے۔ اگر تو ان کی چالوں کو مجھ سے دور نہ کرے تو میں ان کی طرف مائل ہوسکتا ہوں اور نادانوں میں شامل ہوجاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور ان عورتوں کی چالوں کو آپ سے دور کردیا۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں نے کچھ عرصے کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام کو قید میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔ ✨ اس واقعے سے ملنے والا سبق حضرت یوسف علیہ السلام نے گناہ کے مقابلے میں قید کو ترجیح دی، کیونکہ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا دنیا کی ہر آسائش سے زیادہ قیمتی تھی۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کو تنہائی میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ دنیا کی خواہشات کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھنے والا انسان حق اور سچائی کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔ حوالہ: سورۂ یوسف، آیات 23 تا 35۔

About