@smstudio.2: مقابلہ کرنا ہے تو معیار پیدا کرو، کسی کے نام سے اپنی پہچان بنانے کی کوشش نہ کرو! ✍️ قلم کی طاقت شور مچانے میں نہیں، تاریخ میں اپنا نشان چھوڑنے میں ہوتی ہے۔ 💚 کچھ لوگ برسوں تک اپنی پہچان بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اور کچھ اپنی محنت، فن اور غیرتِ ایمانی سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں! شاعرِ انقلاب مفتی سعید ارشد الحسینی صاحب! حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں ہونے والی گستاخیوں کے جواب میں ایک ہی ہفتے کے اندر تین کلام لکھنا، انہیں اپنی آواز میں پیش کرنا، اور اپنے جذبات کو اشعار کی صورت میں ڈھال دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جب دل میں محبت کا جذبہ بیدار ہو تو قلم بھی خاموش نہیں رہتا اور آواز بھی اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ ایک ہفتے میں تین کلام حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں، اور ایک کلام ان موسمی خطیبوں کے جواب میں! یہ صرف تعداد نہیں، بلکہ مسلسل محنت، تخلیقی صلاحیت اور اپنے مؤقف پر ثابت قدمی کی مثال ہے۔ یہ ہوتی ہے سچی لگن، یہ ہوتا ہے محبت کا جذبہ، اور یہ ہوتا ہے اپنے فن کو مقصد کے لیے استعمال کرنا! مفتی صاحب کی اصل طاقت صرف ان کے الفاظ نہیں، بلکہ ان کی فکر، ان کا اندازِ بیان اور وہ فنی صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے جذبات کو مؤثر کلام میں ڈھالتے ہیں۔ ہر شخص کے بس کی بات نہیں کہ ایک ہی موضوع پر بار بار قلم اٹھائے، نئے اشعار تخلیق کرے اور پھر انہیں اپنی آواز میں اس انداز سے پیش کرے کہ سننے والے بھی متوجہ ہوں۔ اور جن حضرات کو مفتی صاحب سے مقابلے کا شوق ہے، ان کے لیے ایک سیدھی سی بات ہے: مقابلہ کرنا ہے تو شاعری کے معیار پر کرو، فکر کی گہرائی پر کرو، الفاظ کی پختگی پر کرو! محض چند کمزور اشعار جوڑ کر کسی کے فن کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی پر تنقید کرنا آسان ہے، لیکن اس جیسی محنت، تسلسل اور تخلیقی صلاحیت پیدا کرنا الگ بات ہے۔ یاد رکھیے! کسی کو نیچا دکھانے کی کوشش انسان کو بڑا نہیں بناتی۔ بڑا وہ ہوتا ہے جو اپنے فن سے پہچانا جائے، اپنے کام سے مقام بنائے اور اپنی صلاحیتوں سے اپنی الگ شناخت قائم کرے۔ دوسروں کے خلاف بولنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنے قلم کو اتنا مضبوط کرے کہ اس کا کام خود اس کی گواہی دے۔ اور جہاں تک صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی شان کا تعلق ہے، ہمارے لیے ان کی عظمت اور حرمت انتہائی اہم ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے احترام کے معاملے میں ہمارا مؤقف واضح ہے۔ ان کی شان میں گستاخی کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے میں ہمارا احتجاج مضبوط، ہمارا مؤقف دوٹوک اور ہماری آواز پُرعزم رہے گی۔ جو لوگ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں توہین آمیز گفتگو کرتے ہیں، انہیں اپنے الفاظ کی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ ایسے معاملات میں حقائق اور شواہد کی بنیاد پر جواب دہی ہونی چاہیے، تاکہ کسی کی حرمت پامال کرنے والے اپنے عمل کے نتائج سے بچ نہ سکیں۔ مفتی سعید ارشد الحسینی صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کے قلم میں مزید قوت، آپ کی آواز میں مزید تاثیر اور آپ کے فن میں مزید نکھار عطا فرمائے۔ آپ کی محنت قبول فرمائے اور آپ کو اپنے مؤقف پر حکمت، استقامت اور وقار کے ساتھ قائم رہنے کی توفیق دے۔ آخر میں بس اتنا کہوں گا: شور مچانے والوں کا شور وقت کے ساتھ تھم جاتا ہے، مگر محنت سے تخلیق کیا گیا فن اپنی پہچان چھوڑ جاتا ہے۔ 🔥 مقام دعووں سے نہیں، کام سے بنتا ہے؛ اور پہچان مخالفت سے نہیں، صلاحیت سے قائم ہوتی ہے! 🔥 #fyp #muftisaeedarshadalhussaini #islamicpost #viral #fyp