استعاروں میں ستاروں بھری پیشانی پر
ہم نے کچھ شعر کہے اپنی ہمہ دانی پر
کتنا آسان تھا روتے ہوئے ماں سے کہنا
بیل خود بڑھ کے لپٹتی ہے پریشانی پر
میرے ہم راز نے زخموں کا بھرم توڑ دیا
چھینٹے گرتے ہی رہے اسکی نمک دانی پر
شاہ شمشیر اٹھا کر یہ رعایا سے کہے
کس نے الزام تراشے ہیں مری رانی پر
دل کہ ہر درد پہ خاموش رہا آج تلک
آنکھ چھلکی ہے ترے غم کی فراوانی پر
پہلی منہ زور ہوا لے گئی خوشبوئے گلاب
باغباں روتا رہا باغ کی ویرانی پر
2026-10-15 22:03:05
0
To see more videos from user @seemab3456, please go to the Tikwm
homepage.