@firnasfirnasmohamad: அஸ்ஸலாமு அலைக்கும் எல்லா புகழும் இறைவனுக்கே மாஷா அல்லாஹ் எவ்வளவு அருமையாக இருந்தது ஜும்மா முபாரக் 🤲🕋🤲🕋🤲🕋🤲🕋🤲🕋

💔🇸🇦FIRNAS NISAMA🇸🇦💔
💔🇸🇦FIRNAS NISAMA🇸🇦💔
Open In TikTok:
Region: SA
Thursday 15 October 2026 21:22:26 GMT
5663
467
10
116

Music

Download

Comments

rajaji4436
Rajaji :
اللهم آمين آمين يارب العالمين
2026-10-17 05:51:56
1
manmami1
Man gilma mami :
2026-10-16 14:35:29
1
safeer.mohammed2
🆂︎🅰︎🅵︎🅴︎🅴︎🆁︎ нαмєє∂ 90's :
🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲ஆமீன்
2026-10-15 21:33:16
1
nilfar8
S...அஸ்ஸாதிக் :
😭😭😭
2026-10-16 03:34:35
1
fathima.rihana02
Fathima rihana :
🤲🤲🤲🤲🤲🤲
2026-10-16 04:29:24
1
abeer.maha
🌹🌹🌹❤️🇱🇰❤️🌹🌹🌹 உயிர் :
🤲🤲🤲🤲🤲🤲
2026-10-16 07:57:38
1
asmababy304
Asma--------baby💔💔💔 :
🤲🤲🤲🤲🤲
2026-10-16 02:17:44
1
srilanka8679
srilanka💐🇱🇰🥀🇱🇰🌹🇱🇰🌷 :
🤲🤲🤲
2026-10-16 02:27:12
1
rm.uauru
💫🫰R.M.♥️💫🫶 :
🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲
2026-10-15 21:42:45
1
fathima7152
Fathima :
👌👌👌
2026-10-18 08:57:20
1
To see more videos from user @firnasfirnasmohamad, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جو سرکاری ملازم یہ کہتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں اپنے حق کے لیے کھڑے نہیں ہو سکتے اُن کے لیے تاریخ کی ایک بڑی مثال امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کو جب گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا تو اُن کی حفاظت کے لیے ایک سپاہی تعینات کیا گیا اُس سپاہی کو امام احمد بن حنبلؒ سے عقیدت تھی ایک دن اُس نے عرض کیا.میں حکومت کا ملازم ہوں یہاں کی نگرانی میری ڈیوٹی ہے میں اپنے فرائض ادا کرنے پر مجبور ہوں کیا روزِ محشر مجھے بھی اِن ظالموں کا سہولتکار تصور کیا جائے گا.امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا نہیں تم سہولت کار نہیں ہو گے بلکہ تم خود ظالموں میں شمار ہو گے کیونکہ ایک اہلکار اتنا ہی برا ہوتا ہے جتنا حکم دینے والا یعنی محض نوکری کی خاطر ظلم پر مبنی حکم ماننا بھی ظلم ہے.رزق اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ ہی روزی دینے والا ہے اگر ہم ظلم کا ساتھ دیں تو پھر ظالموں اور اُن کے کارندوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا اگر یہ جواز مان لیا جائے کہ ہم صرف حکم مان رہے تھے تو پھر واقعہ کربلا کرنے والوں کی بھی خلاصی ہو جاتی وہ بھی یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم تو صرف یزید یا ابن زیاد کے حکم پر امام_حسینؑ اور اُن کے اہلِ بیتؑ کو شہید کر رہے تھے لیکن تاریخ نے اُنہیں ہمیشہ کے لیے
جو سرکاری ملازم یہ کہتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں اپنے حق کے لیے کھڑے نہیں ہو سکتے اُن کے لیے تاریخ کی ایک بڑی مثال امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کو جب گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا تو اُن کی حفاظت کے لیے ایک سپاہی تعینات کیا گیا اُس سپاہی کو امام احمد بن حنبلؒ سے عقیدت تھی ایک دن اُس نے عرض کیا.میں حکومت کا ملازم ہوں یہاں کی نگرانی میری ڈیوٹی ہے میں اپنے فرائض ادا کرنے پر مجبور ہوں کیا روزِ محشر مجھے بھی اِن ظالموں کا سہولتکار تصور کیا جائے گا.امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا نہیں تم سہولت کار نہیں ہو گے بلکہ تم خود ظالموں میں شمار ہو گے کیونکہ ایک اہلکار اتنا ہی برا ہوتا ہے جتنا حکم دینے والا یعنی محض نوکری کی خاطر ظلم پر مبنی حکم ماننا بھی ظلم ہے.رزق اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ ہی روزی دینے والا ہے اگر ہم ظلم کا ساتھ دیں تو پھر ظالموں اور اُن کے کارندوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا اگر یہ جواز مان لیا جائے کہ ہم صرف حکم مان رہے تھے تو پھر واقعہ کربلا کرنے والوں کی بھی خلاصی ہو جاتی وہ بھی یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم تو صرف یزید یا ابن زیاد کے حکم پر امام_حسینؑ اور اُن کے اہلِ بیتؑ کو شہید کر رہے تھے لیکن تاریخ نے اُنہیں ہمیشہ کے لیے "ظالم اور جابر کے طور پر یاد رکھا ہے.لہٰذا آج کے ملازمین کو سوچنا ہو گا کہ وہ کس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ظالم حکمرانوں کا یا مظلوم عوام کا؟رزق کا مالک اللہ ہے نوکری نہیں۔ اس لیے ظلم کے حکم پر عمل کرنا نہ دنیا میں عزت دیتا ہے نہ آخرت میں نجات۔آئیے ظلم کے مقابلے میں خاموش نہ رہیں، 💔🥺😭

About