@imatuadiv: #pelajarindonesia #kelasatas

mvid demek 💥
mvid demek 💥
Open In TikTok:
Region: ID
Friday 16 October 2026 05:09:53 GMT
456
15
0
3

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @imatuadiv, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سلطنتِ عمرانیہ کے کھنڈرات‘‘: خوغیک کے خستہ حال پل پر مقامی لوگوں کی شکایات، فوری مرمت کا مطالبہ گرم چشمہ کے گاؤں خوئیک میں لکڑی کے پل کی خستہ حالی نے مقامی لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ موقع پر بنائی گئی ویڈیو میں پل کے تختے ٹوٹے ہوئے اور درمیان میں کھلے حصے نظر آتے ہیں۔ مقامی باشندوں کے مطابق اسکول جانے والے بچے، خواتین اور بزرگ اسی پل سے گزرتے ہیں اور اس کی موجودہ حالت کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ موقع پر موجود خیر محمد اور  حمیدالین    نے بتایا کہ تقریباً    دھائئ قبل شہزادہ افتخار الدین کی جانب سے فراہم کردہ 2 لاکھ روپے سے پل کی تعمیر کا کام ہوا تھا۔ ان کے مطابق اس کے بعد پل کی باقاعدہ مرمت نہیں ہوئی اور وقت گزرنے کے ساتھ لکڑی کے تختے خراب ہوتے گئے۔ تعمیر کی تاریخ اور اخراجات کی حتمی تصدیق متعلقہ ریکارڈ سے ہونا باقی ہے۔ مقامی لوگوں نے سابق تحصیل ناظم شہزادہ امان سے متعلق شکایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقے کے دورے کے دوران پل کے لیے تعاون کا اعلان کیا تھا، لیکن ان کے مطابق اعلان پر عملی کام نہیں ہوا۔ رہائشیوں کا کہنا تھا کہ انہیں وعدوں کے بجائے محفوظ آمدورفت چاہیے۔  سماجی کارکن خیر الدین شادانی نے پل کی حالت کو ’’سلطنتِ عمرانیہ کے کھنڈرات‘‘ قرار دیتے ہوئے تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں مقامی ضروریات کو نظرانداز کیے جانے پر تنقید کی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، متعلقہ بلدیاتی ادارے اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ پل کا فوری فنی معائنہ کرایا جائے، آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے عارضی انتظام کیا جائے اور مستقل مرمت یا تعمیر کے لیے فنڈز اور تکمیل کی مدت واضح کی جائے۔
سلطنتِ عمرانیہ کے کھنڈرات‘‘: خوغیک کے خستہ حال پل پر مقامی لوگوں کی شکایات، فوری مرمت کا مطالبہ گرم چشمہ کے گاؤں خوئیک میں لکڑی کے پل کی خستہ حالی نے مقامی لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ موقع پر بنائی گئی ویڈیو میں پل کے تختے ٹوٹے ہوئے اور درمیان میں کھلے حصے نظر آتے ہیں۔ مقامی باشندوں کے مطابق اسکول جانے والے بچے، خواتین اور بزرگ اسی پل سے گزرتے ہیں اور اس کی موجودہ حالت کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ موقع پر موجود خیر محمد اور حمیدالین نے بتایا کہ تقریباً دھائئ قبل شہزادہ افتخار الدین کی جانب سے فراہم کردہ 2 لاکھ روپے سے پل کی تعمیر کا کام ہوا تھا۔ ان کے مطابق اس کے بعد پل کی باقاعدہ مرمت نہیں ہوئی اور وقت گزرنے کے ساتھ لکڑی کے تختے خراب ہوتے گئے۔ تعمیر کی تاریخ اور اخراجات کی حتمی تصدیق متعلقہ ریکارڈ سے ہونا باقی ہے۔ مقامی لوگوں نے سابق تحصیل ناظم شہزادہ امان سے متعلق شکایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقے کے دورے کے دوران پل کے لیے تعاون کا اعلان کیا تھا، لیکن ان کے مطابق اعلان پر عملی کام نہیں ہوا۔ رہائشیوں کا کہنا تھا کہ انہیں وعدوں کے بجائے محفوظ آمدورفت چاہیے۔ سماجی کارکن خیر الدین شادانی نے پل کی حالت کو ’’سلطنتِ عمرانیہ کے کھنڈرات‘‘ قرار دیتے ہوئے تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں مقامی ضروریات کو نظرانداز کیے جانے پر تنقید کی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، متعلقہ بلدیاتی ادارے اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ پل کا فوری فنی معائنہ کرایا جائے، آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے عارضی انتظام کیا جائے اور مستقل مرمت یا تعمیر کے لیے فنڈز اور تکمیل کی مدت واضح کی جائے۔

About