@.harfeehsaas: ہم ساری زندگی دوسروں کی نظروں میں اچھا بننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کسی کی محبت کے لیے، کبھی کسی کی قبولیت کے لیے۔ ہم اپنی خوشیاں بھی دوسروں کی پسند کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ اپنی خواہشوں کو خاموش کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمیں خود بھی یاد نہیں رہتا کہ ہم اصل میں کیا چاہتے تھے۔ دوسروں کو سمجھتے سمجھتے ہم اپنی ذات کو سمجھنا بھول جاتے ہیں۔ پھر ایک دن تنہائی میں خود سے ملاقات ہوتی ہے تو اندر ایک اجنبیت محسوس ہوتی ہے۔ جیسے ہم سب کے لیے جیتے رہے، مگر اپنے لیے کبھی ٹھہرے ہی نہیں۔ حالانکہ انسان کا سکون ہر دل میں جگہ بنانے سے نہیں، اپنی ذات کو پہچاننے سے ملتا ہے۔ کیونکہ سب کی نظروں میں اچھا بننے کی کوشش میں اگر انسان خود کی نظروں سے گر جائے، تو پھر دنیا کی ساری قبولیت بھی اندر کا خلا پُر نہیں کر سکتی۔