@nawaiwafaq24.7: نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں جواء مافیا اللہ رکھا عرف الن اور جعفر کے جوئے سٹے چھکے کے اڈوں کی سرپرستی کون کر رہا ہے؟ نوائے وفاق نیوز کو مبینہ لین دین سے متعلق اہم وائس ریکارڈنگ موصول ہوگئ وائس ریکارڈرنگ میں سینئر صحافیوں کا بھی ذکر کیا گیا اور ڈی ایس پی ندیم کے بیٹر افضل اور ایس ایس پی سینٹرل آفس کا بھی بتایا گیا ہے مسلسل نشاندھی کے باوجود اڈہ نہ بند ہونا اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وائس ریکارڈرنگ میں سب حقائق سچ پر مبنی ہے کراچی کے ضلع سینٹرل میں تھانہ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا کی حدود میں مبینہ طور پر جوئے، سٹے اور چھکے کے اڈوں کی سرگرمیوں کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آگیا۔ اللہ رکھا عرف الن اور جعفر سے منسوب مبینہ جوئے اور سٹے کے اڈوں کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ نوائے وفاق نیوز کو اس معاملے سے متعلق بیٹر یاسر اور ارباز کی وائس ریکارڈنگ بھی موصول ہوئی ہے۔ موصول ہونے والی وائس ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر بیٹر یاسر، ارباز اور علی کی گفتگو میں جوئے کے اڈوں کی سرگرمیوں، مبینہ سرپرستی اور متعلقہ افراد کے کردار کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ ریکارڈنگ میں ڈی ایس کے بیٹر افضل اور ایس ایس پی سینٹرل آفس سے منسوب مبینہ معاملات کا بھی ذکر کیا گیا ہے تفصیلات کے مطابق عادل پلاؤ کے سامنے اللہ رکھا عرف الن اور جعفر سے منسوب مبینہ جوئے اور سٹے کے اڈوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ پولیس کے بعض مبینہ بیٹرز کی جانب سے ہفتہ وار رقوم وصول کرکے ان سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے مبینہ طور پر یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کارروائیوں کے باوجود اڈوں کی سرگرمیاں مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں اور بعض مواقع پر مقامات تبدیل کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اس معاملے میں چند افراد کی مبینہ سرپرستی کا ذکر بھی کیا گیا ہے اللہ رکھا عرف الن کے خلاف گٹکا ماوا، اسلحہ اور جوئے و سٹے سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے دوسری جانب ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر عمران، ڈی ایس پی ندیم، اسپیشل برانچ اور ٹاسک فورس کی جانب سے مبینہ جوئے اور سٹے کے اڈوں کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں شہری حلقوں کی جانب سے کراچی پولیس چیف آزاد خان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں مبینہ جوئے اور سٹے کے اڈوں کی سرگرمیوں، ہفتہ وار بھتہ وصولی کے الزامات اور پولیس اہلکاروں یا مبینہ بیٹرز کے ممکنہ کردار کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ الزامات میں ارباز یاسر اور علی کے مبینہ روابط اور ایس ایچ او زاہد لودھی سے منسوب تعلقات کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے نوائے وفاق نیوز اس معاملے سے متعلق موصول ہونے والی وائس ریکارڈنگ اور سامنے آنے والے دعوؤں کی بنیاد پر متعلقہ حکام سے تحقیقات اور مؤقف سامنے لانے کا مطالبہ کرتا ہے اگلی قسط میں تمام شواہد بھی سامنے لائے جائنگے