@elisaaojtuw: #cotedivoire🇨🇮 #abidjan225🇨🇮 #visibilité #pourtoii

Fanny market
Fanny market
Open In TikTok:
Region: BJ
Friday 16 October 2026 10:08:46 GMT
45642
1357
57
384

Music

Download

Comments

user7379931029872
Charles Alaïko :
je suis intéressé vous êtes où et c'est combien
2026-10-18 16:20:18
1
dibroucfa
Dibrou CFA :
C’est combien ?
2026-10-16 18:35:40
1
moussa.rumba10
Moussa Rumba10 :
c'est publicité vous faites ou bien vous vendez ?
2026-10-18 05:46:21
1
franck.events
Franck Bayo :
interressé
2026-10-19 17:46:19
0
aouakebossio
aouakebossio :
je peux avoir
2026-10-19 18:02:06
0
syndou.soumahoro
Syndou Soumahoro :
bonsoir
2026-10-16 19:53:17
1
alaberake
mcalans :
Intéressé
2026-10-18 14:23:35
0
user2782372420055
user2782372420055 :
le prix svp
2026-10-17 21:19:50
0
user52327096838737
begrah :
je suis intéressé
2026-10-19 08:24:11
0
bodo.mougnon
BODO MOUGNON :
Bizarre.. personne ne demande comment ca marche ???
2026-10-18 18:18:05
0
borisckore
borisckore :
Bonsoir je suis intéressé svp Comment je fais ?
2026-10-18 14:18:47
0
jeanlebeni1
jeanlebeni :
c'est bon
2026-10-16 13:01:09
0
fofanalasslna
[email protected] :
puis-je svp passer une commande ? Abidjan cap nord
2026-10-17 15:00:03
0
issa.kone2874
issa kone :
je me demandais si vraiment ça répond à la pub
2026-10-17 17:14:16
0
user2087679530813
libératrice :
intéressé
2026-10-17 17:35:12
0
abdoulkarimtogo7
abdoulkarimtogo31 :
excellent je suis intéressé
2026-10-18 20:19:42
1
user5292543233867
aka fidèle :
vous êtes situé où ?
2026-10-17 09:57:28
0
eynondonatienamou6
Eynon Donatien Amou :
vous êtes situe où
2026-10-17 16:42:44
0
germaindje
DKG🇨🇮🇨🇮🇨🇮🇨🇮 :
intéressé
2026-10-17 12:20:25
0
haori73
Daddy 225 :
Intéressé
2026-10-17 10:32:33
0
doumbia.mohamed887
♣︎ G£N£RÅĹ FÅƘØ¥ ♣︎ ✅️ :
La capacité svp
2026-10-16 16:57:19
0
To see more videos from user @elisaaojtuw, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#ایک معصوم میاں بیوی کا قتل، انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ کبھی کبھی انسانیت اس قدر بے بس اور خاموش دکھائی دیتی ہے کہ دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ جب کسی بے گناہ انسان کی جان لی جاتی ہے، جب کسی ماں کی گود اجڑتی ہے، جب کسی باپ کا سہارا چھن جاتا ہے، اور جب محبت کے رشتے خون میں نہلا دیے جاتے ہیں، تو صرف دو انسانوں کی زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ انسانیت کا ضمیر بھی زخمی ہو جاتا ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے ایک میاں بیوی کے سر قلم کیے جانے کی خبر نے دل کو غم اور افسوس سے بھر دیا ہے۔ اگر واقعی یہ دونوں بے گناہ تھے، تو ان کی جانوں کا چھن جانا ایک ایسا سانحہ ہے جس کا دکھ الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ایک میاں بیوی، جنہوں نے زندگی کے سفر میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے وعدے کیے ہوں گے، جنہوں نے مل کر خواب دیکھے ہوں گے، جن کے دلوں میں اپنے مستقبل کی امیدیں بسی ہوں گی، آج ان کے بارے میں سوچ کر ہی دل کانپ اٹھتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے، وہ گھر جہاں کبھی زندگی کی رونقیں ہوں گی، جہاں ہنسی کی آوازیں گونجتی ہوں گی، جہاں ایک دوسرے کے ساتھ جینے اور بڑھاپا گزارنے کے خواب دیکھے گئے ہوں گے، وہاں ان کی جدائی کا غم کس طرح قیامت بن کر ٹوٹا ہوگا۔ ان کے پیاروں پر کیا گزری ہوگی؟ ان کی ماؤں کے دل کس طرح ٹوٹے ہوں گے؟ ان کے عزیزوں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا حساب کون دے گا؟ کیا انصاف کا مقصد صرف سزا دینا ہے، یا حق اور سچ کی حفاظت کرنا بھی ہے؟ کسی بھی حکومت کی اصل عظمت اس کی طاقت، اس کے اقتدار یا اس کے شاہانہ محلات سے نہیں بلکہ اس کے عدل و انصاف سے پہچانی جاتی ہے۔ انصاف وہ ہے جس میں بے گناہ کو تحفظ ملے، مظلوم کو آواز ملے اور کسی انسان کی جان لینے سے پہلے ہر پہلو کو پوری دیانت داری سے جانچا جائے۔ اگر کسی بے گناہ کو سزا مل جائے تو یہ محض ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں، بلکہ پورے نظامِ انصاف کے لیے ایک سنگین سوال بن جاتا ہے۔ اسلام تو ایک انسان کی جان کی حرمت کو انتہائی بلند مقام دیتا ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں انسانی جان کی عظمت کا احساس دلاتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی معاشرے میں سزا اور انصاف کے معاملات میں رحم، احتیاط اور حقائق کی مکمل جانچ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ تحریر کسی قوم یا مذہب سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ انسانیت کے درد اور انصاف کی ضرورت کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ کسی حکومت سے اختلاف کا مطلب کسی قوم کے خلاف نفرت نہیں ہوتا۔ سعودی عرب بھی کروڑوں انسانوں کا وطن ہے، اور وہاں کے عام لوگ بھی امن، محبت اور انصاف کے مستحق ہیں۔ ہمارا دکھ کسی قوم سے نہیں، بلکہ ہر اس واقعے سے ہے جس میں انسانی جان، انسانی وقار اور انصاف کے تقاضوں پر سوال اٹھتے ہیں۔ آج دل یہی سوال کرتا ہے کہ آخر کب تک طاقت کے فیصلوں کے سامنے کمزور انسانوں کے آنسو بے آواز رہیں گے؟ کب دنیا میں ایسا انصاف قائم ہوگا جہاں کسی بے گناہ کو خوف کے سائے میں زندگی نہ گزارنی پڑے؟ کب انسان کی جان کو اقتدار، سیاست اور طاقت سے بلند سمجھا جائے گا؟ اے اللہ! اگر ان دونوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو ان کے حق میں انصاف کے دروازے کھول دے۔ ان کے لواحقین کو صبر عطا فرما، ان کے دلوں کے زخموں پر رحم کی مرہم رکھ، اور دنیا کے ہر مظلوم کو انصاف نصیب فرما۔ یاد رکھیے، کسی انسان کی جان چلی جائے تو وہ واپس نہیں آتی، کسی اجڑے ہوئے گھر کی رونقیں پہلے جیسی نہیں رہتیں، اور کسی ماں کے دل میں پیدا ہونے والا خلا الفاظ سے پُر نہیں ہوتا۔ انسانیت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کون کتنا طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت رکھنے والا کمزور کے ساتھ کتنا انصاف کرتا ہے۔ اللہ کرے کہ دنیا میں تلواروں سے زیادہ انصاف کی آواز بلند ہو، نفرت سے زیادہ محبت کو جگہ ملے، اور کسی بے گناہ کے گھر میں کبھی ایسا اندھیرا نہ اترے جس کی صبح کبھی طلوع نہ ہو۔ کیونکہ جب انصاف خاموش ہو جائے تو صرف انسان نہیں مرتے، انسانیت بھی اپنا سر جھکا لیتی ہے۔ — ایک دکھی دل کی آواز 🥀
#ایک معصوم میاں بیوی کا قتل، انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ کبھی کبھی انسانیت اس قدر بے بس اور خاموش دکھائی دیتی ہے کہ دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ جب کسی بے گناہ انسان کی جان لی جاتی ہے، جب کسی ماں کی گود اجڑتی ہے، جب کسی باپ کا سہارا چھن جاتا ہے، اور جب محبت کے رشتے خون میں نہلا دیے جاتے ہیں، تو صرف دو انسانوں کی زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ انسانیت کا ضمیر بھی زخمی ہو جاتا ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے ایک میاں بیوی کے سر قلم کیے جانے کی خبر نے دل کو غم اور افسوس سے بھر دیا ہے۔ اگر واقعی یہ دونوں بے گناہ تھے، تو ان کی جانوں کا چھن جانا ایک ایسا سانحہ ہے جس کا دکھ الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ایک میاں بیوی، جنہوں نے زندگی کے سفر میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے وعدے کیے ہوں گے، جنہوں نے مل کر خواب دیکھے ہوں گے، جن کے دلوں میں اپنے مستقبل کی امیدیں بسی ہوں گی، آج ان کے بارے میں سوچ کر ہی دل کانپ اٹھتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے، وہ گھر جہاں کبھی زندگی کی رونقیں ہوں گی، جہاں ہنسی کی آوازیں گونجتی ہوں گی، جہاں ایک دوسرے کے ساتھ جینے اور بڑھاپا گزارنے کے خواب دیکھے گئے ہوں گے، وہاں ان کی جدائی کا غم کس طرح قیامت بن کر ٹوٹا ہوگا۔ ان کے پیاروں پر کیا گزری ہوگی؟ ان کی ماؤں کے دل کس طرح ٹوٹے ہوں گے؟ ان کے عزیزوں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا حساب کون دے گا؟ کیا انصاف کا مقصد صرف سزا دینا ہے، یا حق اور سچ کی حفاظت کرنا بھی ہے؟ کسی بھی حکومت کی اصل عظمت اس کی طاقت، اس کے اقتدار یا اس کے شاہانہ محلات سے نہیں بلکہ اس کے عدل و انصاف سے پہچانی جاتی ہے۔ انصاف وہ ہے جس میں بے گناہ کو تحفظ ملے، مظلوم کو آواز ملے اور کسی انسان کی جان لینے سے پہلے ہر پہلو کو پوری دیانت داری سے جانچا جائے۔ اگر کسی بے گناہ کو سزا مل جائے تو یہ محض ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں، بلکہ پورے نظامِ انصاف کے لیے ایک سنگین سوال بن جاتا ہے۔ اسلام تو ایک انسان کی جان کی حرمت کو انتہائی بلند مقام دیتا ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں انسانی جان کی عظمت کا احساس دلاتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی معاشرے میں سزا اور انصاف کے معاملات میں رحم، احتیاط اور حقائق کی مکمل جانچ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ تحریر کسی قوم یا مذہب سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ انسانیت کے درد اور انصاف کی ضرورت کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ کسی حکومت سے اختلاف کا مطلب کسی قوم کے خلاف نفرت نہیں ہوتا۔ سعودی عرب بھی کروڑوں انسانوں کا وطن ہے، اور وہاں کے عام لوگ بھی امن، محبت اور انصاف کے مستحق ہیں۔ ہمارا دکھ کسی قوم سے نہیں، بلکہ ہر اس واقعے سے ہے جس میں انسانی جان، انسانی وقار اور انصاف کے تقاضوں پر سوال اٹھتے ہیں۔ آج دل یہی سوال کرتا ہے کہ آخر کب تک طاقت کے فیصلوں کے سامنے کمزور انسانوں کے آنسو بے آواز رہیں گے؟ کب دنیا میں ایسا انصاف قائم ہوگا جہاں کسی بے گناہ کو خوف کے سائے میں زندگی نہ گزارنی پڑے؟ کب انسان کی جان کو اقتدار، سیاست اور طاقت سے بلند سمجھا جائے گا؟ اے اللہ! اگر ان دونوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو ان کے حق میں انصاف کے دروازے کھول دے۔ ان کے لواحقین کو صبر عطا فرما، ان کے دلوں کے زخموں پر رحم کی مرہم رکھ، اور دنیا کے ہر مظلوم کو انصاف نصیب فرما۔ یاد رکھیے، کسی انسان کی جان چلی جائے تو وہ واپس نہیں آتی، کسی اجڑے ہوئے گھر کی رونقیں پہلے جیسی نہیں رہتیں، اور کسی ماں کے دل میں پیدا ہونے والا خلا الفاظ سے پُر نہیں ہوتا۔ انسانیت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کون کتنا طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت رکھنے والا کمزور کے ساتھ کتنا انصاف کرتا ہے۔ اللہ کرے کہ دنیا میں تلواروں سے زیادہ انصاف کی آواز بلند ہو، نفرت سے زیادہ محبت کو جگہ ملے، اور کسی بے گناہ کے گھر میں کبھی ایسا اندھیرا نہ اترے جس کی صبح کبھی طلوع نہ ہو۔ کیونکہ جب انصاف خاموش ہو جائے تو صرف انسان نہیں مرتے، انسانیت بھی اپنا سر جھکا لیتی ہے۔ — ایک دکھی دل کی آواز 🥀

About