@bettynindya_99: Stasiun Taichung #fypシ゚viral #epyepe #taichung_taiwan🇹🇼

Ⓑⓔⓣⓣⓨ
Ⓑⓔⓣⓣⓨ
Open In TikTok:
Region: TW
Friday 16 October 2026 10:39:30 GMT
4345
162
1
43

Music

Download

Comments

fenyu9337
5w4r H1t4m :
tempat penuh kenangan🥺🥰🥰
2026-10-31 09:14:03
0
To see more videos from user @bettynindya_99, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پاراچنار کی بیٹی نے اگر اپنی پسند سے شادی کی تھی تو اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنا گھر بسایا، دو پھول جیسی معصوم بیٹیوں کو جنم دیا اور اپنی زندگی گزار رہی تھی۔ مگر افسوس کہ اس کے باپ کے لیے نام نہاد غیرت، اپنی بیٹی کی زندگی اور دو معصوم نواسیوں کی جانوں سے بھی زیادہ اہم بن گئی۔ یہ غیرت نہیں، کھلی درندگی ہے! اطلاعات کے مطابق، اس سفاکانہ واقعے میں باپ نے اپنی ہی بیٹی، داماد اور دو معصوم نواسیوں کو قـتل کر دیا۔ یہاں تک کہ دونوں ننھی بچیوں کے گلے بھی چھری سے کاٹ دیے۔ ایک بچی کی عمر صرف ایک سال اور دوسری کی پانچ سال بتائی جا رہی ہے۔ آخر ان معصوم بچیوں کا کیا قصور تھا؟ ایک سال کی بچی تو ابھی لفظ ’’نانا‘‘ کہنا بھی نہیں سیکھ پائی تھی۔ اس نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ غیرت تو یہ ہوتی کہ بیٹی کو تحفظ دیتے، اس کے گھر کو آباد دیکھ کر خوش ہوتے۔ غیرت یہ نہیں کہ اپنی ہی اولاد اور معصوم بچوں کی جان لے لی جائے۔ آخر ہم کس معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں اپنی پسند سے شادی کرنا جرم سمجھا جاتا ہے، مگر قتـل کرکے اسے غیرت کا نام دے دیا جاتا ہے؟ کیا کسی باپ، بھائی یا خاندان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی نام نہاد عزت کے نام پر کسی کی زندگی چھین لے؟ ہرگز نہیں! اسلام، انسانیت اور قانون کسی کو بھی یہ حق نہیں دیتے۔ یاد رکھیے! عزت قتـل کرنے سے نہیں، انسان کی جان اور اس کے حق کا احترام کرنے سے ہوتی ہے۔ آج چار جنازے صرف ایک خاندان کے نہیں اٹھے، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی، جہالت اور معاشرتی رویوں پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ محبت جرم نہیں، اپنی پسند سے شادی جرم نہیں؛ جرم تو قـتل ہے۔ قاتل کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام مظلوموں کی مغفرت فرمائے، لواحقین کو صبر عطا کرے اور ہمارے معاشرے کو اس جہالت سے نجات دے۔ آمین۔ .  Repost requst🙏🙏 .  .  .  .  #foryou #forupage #tiktokteam #viral_video #100k
پاراچنار کی بیٹی نے اگر اپنی پسند سے شادی کی تھی تو اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنا گھر بسایا، دو پھول جیسی معصوم بیٹیوں کو جنم دیا اور اپنی زندگی گزار رہی تھی۔ مگر افسوس کہ اس کے باپ کے لیے نام نہاد غیرت، اپنی بیٹی کی زندگی اور دو معصوم نواسیوں کی جانوں سے بھی زیادہ اہم بن گئی۔ یہ غیرت نہیں، کھلی درندگی ہے! اطلاعات کے مطابق، اس سفاکانہ واقعے میں باپ نے اپنی ہی بیٹی، داماد اور دو معصوم نواسیوں کو قـتل کر دیا۔ یہاں تک کہ دونوں ننھی بچیوں کے گلے بھی چھری سے کاٹ دیے۔ ایک بچی کی عمر صرف ایک سال اور دوسری کی پانچ سال بتائی جا رہی ہے۔ آخر ان معصوم بچیوں کا کیا قصور تھا؟ ایک سال کی بچی تو ابھی لفظ ’’نانا‘‘ کہنا بھی نہیں سیکھ پائی تھی۔ اس نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ غیرت تو یہ ہوتی کہ بیٹی کو تحفظ دیتے، اس کے گھر کو آباد دیکھ کر خوش ہوتے۔ غیرت یہ نہیں کہ اپنی ہی اولاد اور معصوم بچوں کی جان لے لی جائے۔ آخر ہم کس معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں اپنی پسند سے شادی کرنا جرم سمجھا جاتا ہے، مگر قتـل کرکے اسے غیرت کا نام دے دیا جاتا ہے؟ کیا کسی باپ، بھائی یا خاندان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی نام نہاد عزت کے نام پر کسی کی زندگی چھین لے؟ ہرگز نہیں! اسلام، انسانیت اور قانون کسی کو بھی یہ حق نہیں دیتے۔ یاد رکھیے! عزت قتـل کرنے سے نہیں، انسان کی جان اور اس کے حق کا احترام کرنے سے ہوتی ہے۔ آج چار جنازے صرف ایک خاندان کے نہیں اٹھے، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی، جہالت اور معاشرتی رویوں پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ محبت جرم نہیں، اپنی پسند سے شادی جرم نہیں؛ جرم تو قـتل ہے۔ قاتل کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام مظلوموں کی مغفرت فرمائے، لواحقین کو صبر عطا کرے اور ہمارے معاشرے کو اس جہالت سے نجات دے۔ آمین۔ . Repost requst🙏🙏 . . . . #foryou #forupage #tiktokteam #viral_video #100k

About