@kanzlicious_: معاف کرنا اللہ جی! میں ہر بار کہتی رہی کہ جانے دو، ہر بار دل کو سمجھایا، ہر بار خود ہی چپ ہو گئی۔ مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بھرتے نہیں، بس عادت بن جاتے ہیں اور سانس کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ کچھ باتیں تیر کی طرح لگیں، اور نشان روح پر چھوڑ گئیں۔ جو لفظ منہ سے نکل گئے، وہ لوٹ کر نہیں آئے، مگر میرے اندر ٹھہر گئے۔ کسی نے ہنس کر کہہ دیا، اور بھول گیا۔ میں راتوں کو جاگ کر وہی ایک جملہ دہراتی رہی۔ کچھ لوگ ایسے تھے جن کے لیے میں نے خود کو گھسا دیا، اپنی نیند، اپنی خوشی، اپنی عزت بھی بیچ دی۔ اور جب مجھے ان کی ضرورت پڑی، وہ اجنبی بن گئے، جیسے کبھی جانتے ہی نہ تھے، جیسے میں ان کی کہانی کا کوئی کردار ہی نہ تھی۔ مجھ سے کہا گیا، "بڑا دل رکھو، معاف کر دو۔" مگر کسی نے یہ نہ پوچھا کہ جس کا دل ٹوٹا ہو، وہ بڑا دل کہاں سے لائے؟ معافی کوئی لفظ نہیں، جو زبان سے ادا ہو جائے۔ یہ تو وہ بوجھ ہے جو سینے سے اٹھانا پڑتا ہے، اور میرے ہاتھ ابھی کانپتے ہیں۔ اللہ جی! تُو تو دلوں کا حال جانتا ہے، تُو جانتا ہے کہ میں نے کتنی بار کوشش کی۔ کتنی راتیں سجدے میں رو کر دل کو ہلکا کرنا چاہا۔ پھر بھی کچھ نام جب زبان پر آتے ہیں، تو دل میں پرانی آگ پھر سے بھڑک اٹھتی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ تُو معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، اسی لیے شرمندہ ہوں، اسی لیے کہتی ہوں: "معاف کرنا اللہ جی!" میں ابھی اتنی بڑی نہیں ہوئی، میرا ظرف ابھی اتنا وسیع نہیں، کہ ہر چوٹ کو یوں ہی سہہ کر مسکرا دوں۔ کچھ باتیں اور کچھ انسان میری یادوں کے ایسے کمرے میں بند ہیں جس کی چابی میں نے خود ہی گم کر دی ہے۔ میں ان کے لیے دروازے نہیں کھولوں گی، نہ آنکھوں میں آنسو لاؤں گی، نہ ان کے لیے دعا مانگوں گی۔ لوگ کہتے ہیں، "آہ بری چیز ہے، بدعا بری چیز ہے۔" میں کہتی ہوں، آہ تب نکلتی ہے جب دل کی دیوار گر جاتی ہے۔ میں نے کب چاہا تھا کہ کسی کو بددعا دوں؟ میں تو بس اتنا چاہتی تھی کہ کوئی میرا درد سمجھ لے۔ مگر اے میرے رب! میں اپنا معاملہ تجھ پر چھوڑتی ہوں، تُو بہتر انصاف کرنے والا ہے، تُو ہی ہر دل کا حساب رکھتا ہے۔ میں اپنے ہاتھ سے کسی کا بدلہ نہیں لوں گی، میں بس یہ بوجھ تیرے حوالے کرتی ہوں۔ شاید ایک دن یہ دل خود ہی نرم ہو جائے، شاید وقت وہ کام کر دے جو میں آج نہیں کر سکتی۔