@qureshidx5: کبھی جو مدتوں کے بعد اسکا سامنا ہوگا سوائے پاس آداب تکلف کے اور کیا ہوگا یہاں وہ کون ہے، جو انتخاب غم پر قادر ہے جو مل جائے وہی غم دوستوں کا مدّعا ہوگا صلیب وقت پر میں نے پکارا تھا محبّت کو میری آواز جس نے بھی سنی ہوگی ہنسا ہوگا نوید سر خوشی جب آئے گی اس وقت تک شاید ہمیں زہر غم ہستی گوارا ہو چکا ہو گا ابھی اک شور ہاو ہو سنا ہے ساربانوں نے وہ پاگل قافلے کی ضد میں پیچھے رہ گیا ہوگا ہمارے شوق کے آسودہ و خوشحال ہونے تک تمہارے عارض و گیسو کا سودا ہو چکا ہوگا نوائیں، نکہتیں، آسودہ چہرے، دلنشیں رشتے مگر اک شخص اس ماحول میں کیا سوچتا ہو گا ہنسی آتی ہے مجھکو مصلحت کے ان تقاضوں پر کے اب اک اجنبی بن کر اسے پہچاننا ہوگا دلیلوں سے دوا کا کام لینا سخت مشکل ہے مگر اس غم کی خاطر یہ ہنر بھی سیکھنا ہوگا وہ منکر ہے تو پھر شاید ہر اک مکتوب شوق اس نے سر انگشت حنائی سے خلاوں میں لکھا ہوگا ہے نصف شب وہ دیوانہ ابھی تک گھر نہیں آیا کسی سے چاندنی راتوں کا قصّہ چھڑ گیا ہوگا صبا! شکوہ ہے مجھکو ان دریچوں سے، دریچوں سے؟ دریچوں میں تو دیمک کے سوا اب اور کیا ہوگا. #search